این آر او کے حصول کیلئے بلیک میلنگ کی تدبیریں کام نہیں کریں گی، سینٹر فیصل جاوید

اسلام آباد۔ 21 ستمبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی کانفرنس (اے پی سی) کا مقصد حکومت سے قومی مفاہمت آر ڈیننس (این آر او) لینا ہے تاکہ وہ بدعنوانی کے مقدمات سے بچ سکیں۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تنقیدکرتے ہوے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں مطلوبہ …

اسلام آباد۔ 21 ستمبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی کانفرنس (اے پی سی) کا مقصد حکومت سے قومی مفاہمت آر ڈیننس (این آر او) لینا ہے تاکہ وہ بدعنوانی کے مقدمات سے بچ سکیں۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تنقیدکرتے ہوے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں مطلوبہ قانون سازی کی اہمیت سے واقف ہونے کے باوجود ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلوں پر بلیک میلنگ کے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی مجوزہ ترامیم کا مقصد مقدمات کا سامنا کرنے والے سینئر اپوزیشن رہنماؤں کو فائدہ پہنچانا ہے، جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کے بیٹے اور بیٹی، شہباز شریف اور ان کے بیٹے، سابق صدر آصف علی زرداری اور جعلی بینک اکاؤنٹ سکینڈل میں ملوث اس کے ساتھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے غیر منطقی مطالبات کو قبول کرکے احتساب کے عمل کو کبھی بھی غیر مؤثر نہیں ہونے دے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حزب اختلاف حکومت کو ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ پی ٹی آئی کرپشن، غربت اور منظم مافیا کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حزب اختلاف کی اے پی سی کے باوجود پی ٹی آئی کی حکومت اپنی مقررہ مدت پوری کرے گی کیونکہ ان کے پاس نہ تو کوئی حکمت عملی ہے اور نہ ہی ہم ان سے خوفزدہ ہیں۔ فیصل جاوید نے کہا کہ اے پی سی بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کرپٹ اپوزیشن اپنی غیر قانونی املاک کے تحفظ کے لئے ملک پر حکمرانی کرنا چاہتی ہے تاہم اے پی سی کا نتیجہ صفر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ وہ کسی بھی معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن وہ بدعنوانی پر سمجھوتہ کے لئے تیار نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ حکومت نواز شریف کو لندن سے وطن واپس لانے کے لئے تمام دستیاب قانونی آپشنز استعمال کرے گی تاکہ وہ عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرسکیں اور اب وقت آگیا ہے کہ عدالتوں کو گمراہ کرکے عدالتی نظام کا مذاق اڑانے والے نواز شریف کو وطن واپس آنا چاہیے وہ اے پی سی کی میٹنگ میں کافی بہتر نظر آئے تھے۔