این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اس کا حصہ باقاعدگی سے مل رہا ہے، امن،ترقی اور خوشحالی کیلئے وفاق اور صوبے کو ملکر کام کرنا ہوگا،وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اس کا حصہ باقاعدگی سے مل رہا ہے، انہیں وہی حصہ ملتا ہے جو دیگر صوبوں کو دیا جاتا ہے، امن،ترقی اور خوشحالی کے لئے وفاق اور صوبے کو مل کر کام کرنا ہوگا،مرکز …

اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اس کا حصہ باقاعدگی سے مل رہا ہے، انہیں وہی حصہ ملتا ہے جو دیگر صوبوں کو دیا جاتا ہے، امن،ترقی اور خوشحالی کے لئے وفاق اور صوبے کو مل کر کام کرنا ہوگا،مرکز پر الزام لگانے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں،دہشت گردی کے معاملے پر سیاست نہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے،خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے گندم بحران پر وفاق سے بات کرنے کی بجائے الزام تراشی کی جا رہی ہے،ریاست مخالف عناصر سے مذاکرات اور وفاق سے انکار یہ بات ٹھیک نہیں ہے، عوام کی مسائل کو پس پشت ڈال کر ہر بات کا آغاز قیدی 804 کے نام سے کیا جاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کاہر معاملے کو سیاست کی نذر کرنا ملکی مفادات کے خلاف ہے،دہشت گردی کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں پوری قوم کا مسئلہ ہے،دہشت گردی کے معاملے پر سیاست نہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کے قبائلی مشران سے بات چیت حکومت کے ذریعے ممکن ہے،حقائق سامنے ہوتے ہوئے معاملے کو غلط رنگ دینا مناسب نہیں،ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور سرکاری نمائندے مسلسل مذاکرات میں شامل رہے ہیں،کابینہ میں 4 ارب روپے کی منظوری کا فیصلہ واضح ہے،عوام کو گمراہ کر کے خوف پھیلانا ناانصافی ہے۔

انجینئر امیر مقام نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پورے ملک میں ایک ہی پالیسی کے تحت ہو رہے ہیں،خیبر پختونخوا میں آپریشن کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں،اگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا متبادل ہے تو بتایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 12 سال کی حکومت کے باوجود امن کا متبادل راستہ نہیں دیا،دہشتگردی کے خلاف ڈبل سٹینڈرڈ قابلِ قبول نہیں،صوبے کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے،وزیر اعلیٰ پورے خیبر پختونخوا کے نمائندہ ہیں صرف ایک نعرے کے نہیں،صوبے میں دہشت گردی،معیشت اور عوامی مسائل موجود ہیں،مرکز پر الزام لگانے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اس کا حصہ باقاعدگی سے مل رہا ہے،خیبر پختونخوا کو وہی حصہ ملتا ہے جو دیگر صوبوں کو دیا جاتا ہے،وسائل کے استعمال کا حساب عوام کے سامنے رکھا جائے،سیاست سب کا حق ہےمگر مسائل کا حل دکھانا بھی ضروری ہے۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ پی ٹی آئی ہر چیز پر سیاست کر رہی ہے،صوبے کی عوام کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے،عوام کی مسائل کو پس پشت ڈال کر ہر بات کا آغاز قیدی 804 کے نام سے کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تیراہ کے معاملے پر گمراہ کن پروپیگنڈا کیا گیا،ان کی کابینہ میں بات آئی سارے معاملات کھل کر سامنے آگئے،دہشت گردی کا معاملہ بہت سنگین ہے، اس پر تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ مل کر فیصلے کرنے ہیں،انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پورے ملک میں ہورہے ہیں،انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن اگر فوج نہ کرے تو دوسرا حل کیا ہے؟ ہمیں بتائیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے صوبے میں لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کو مضبوط کرنے کے لیے کیا کیا ؟ آپ صرف قیدی 804 کے وزیر اعلیٰ نہیں ہیں،آپ پورے صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں،وزیر اعلی کا کام یہ نہیں ہے کہ کبھی لاہور اور کبھی کراچی جائیں،کسی ایک انسان کو سامنے رکھتے ہوئے بیانات دینا جائز نہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ سب کا مسئلہ ہے، اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے،تیراہ میں آپریشن اگر ہورہا ہے تو وہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہے،جہاں دہشت گردوں کی اطلاعات آتی ہیں وہیں آپریشن ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو حصہ خیبرپختونخوا کا این ایف سی ایوارڈ میں بنتا ہے وہ ہر مہینے خیبرپختونخوا کو ملتا ہے،جو حصہ خیبرپختونخوا کو ملا ہے اس کا حساب دیں،این ایف سی کا حصہ قیدی 804 پر لگانے کے لیے نہیں ملتا،قیدی نمبر 804 اس سب سے رہا نہیں ہوگا،پی ٹی آئی کے پی کے کی عوام کو مشکلات میں ڈال رہی ہے، قیدی نمبر 804 کو مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ تیراہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے ڈسٹری بیوشن سینٹر قائم ہیں اور 500 خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا ہے،صوبائی حکومت کے آپریشن سے متعلق بیانات نے عوام میں خوف پھیلایا۔ گورنر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا،انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن صرف امن و امان کے لیے ہوں گے،سردیوں میں نقل مکانی معمول کا عمل ہے، 60 فیصد خاندانوں کی موسمی مائیگریشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے بیانات کے باعث لوگ بلاوجہ گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں،متاثرہ افراد کو عارضی بے گھر افراد بھی نہیں کہا جا سکتا،صوبائی حکومت فوری طور پر مختص 4 ارب روپے کی تقسیم شروع کرے۔انہوں نے صوبائی حکومت سے سردی میں بے گھر خاندانوں کی فوری مالی و غذائی مدد کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت کا فوکس صرف 18 فروری اور گندم کے معاملے پر ہے،گندم بحران پر وفاق سے بات کرنے کے بجائے الزام تراشی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، ریاست مخالف عناصر سے مذاکرات مگر وفاق سے انکار، یہ بات ٹھیک نہیں،امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔گورنر نے کہا کہ گالم گلوچ سے نہیں دلائل سے وسائل ملتے ہیں،سیاست بعد میں اس وقت صوبے کے امن کی اولین ذمہ داری ہے۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نےخیبرپختونخوا حکومت کے رویے کے حوالے سے کہا کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہے،جو لوگ ہمارے ریاست کو ماننے کو تیار نہیں ہے، کے پی حکومت ان کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ میں خیبر پختونخوا حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ وفاق کے ساتھ بیٹھے،دلیل کے ساتھ بات کرے،اپنا کیس وفاق کے سامنے رکھیں گے تو پیسے بھی مل جائیں گے۔