این ایچ اے کا گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ 171 کلومیٹر شاہراہوں کی بحالی کا منصوبہ

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے حالیہ اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (گلوف) کے باعث سڑکوں، پلوں اور دیگر ڈھانچوں کو پہنچنے والے نقصان کے بعد گلگت بلتستان میں اہم شاہراہوں کے 171 کلومیٹر حصے کی بحالی کی تجویز دی ہے۔

اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے حالیہ اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (گلوف) کے باعث سڑکوں، پلوں اور دیگر ڈھانچوں کو پہنچنے والے نقصان کے بعد گلگت بلتستان میں اہم شاہراہوں کے 171 کلومیٹر حصے کی بحالی کی تجویز دی ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق مجوزہ بحالی منصوبے میں مانسہرہ-ناران-جلکھڈ-چلاس (ایم این جے سی/این-15) اور قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ/این-35) کے مختلف حصوں کے علاوہ جگلوٹ-سکردو روڈ (ایس-1) پر حفاظتی کام بھی شامل ہیں۔منصوبے کے تحت این ایچ اے نے ایم این جے سی (این-15) کے کلومیٹر 186 سے 240 تک 54 کلومیٹر حصے کی اسٹرکچرل اوورلے کے ذریعے بحالی کی تجویز دی ہے۔منصوبے میں قراقرم ہائی وے (این-35) کے کلومیٹر 350 سے 467 تک 117 کلومیٹر حصے کی بحالی کے ساتھ قراقرم ہائی وے پر تتہ پانی کے مقام پر رِجڈ پیومنٹ کی تعمیر بھی شامل ہے۔

این-15 اور قراقرم ہائی وے کے مجوزہ بحالی کے حصوں کی مجموعی لمبائی 171 کلومیٹر بنتی ہے۔جگلوٹ-سکردو روڈ (ایس-1) پر سلائیڈ شیلٹرز بھی تجویز کیے گئے ہیں، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے قراقرم ہائی وے اور ایس-1 کے معمول کی دیکھ بھال کے معاہدوں پر کارروائی جاری ہے۔دستاویز میں حالیہ اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور گلوف کے باعث تینوں سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔قراقرم ہائی وے پر گینی کے مقام پر کلومیٹر 426 سے 427 کے درمیان مٹی کا بہاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔ سلائیڈ کو بعد ازاں معمول کی دیکھ بھال کے معاہدے کے تحت صاف کر دیا گیا۔جگلوٹ-سکردو روڈ پر کئی پلوں اور دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچا۔

کلومیٹر 16+200 پر ایک پل مکمل طور پر بہہ گیا، جس کے باعث ٹریفک کو متبادل راستے سے گزارنا پڑا۔کلومیٹر 21+850 پر پل کے ابٹمنٹس کٹاؤ کا شکار ہوئے اور انہیں نقصان پہنچا، جس کے بعد ٹریفک کو ایک لین پر منتقل کر دیا گیا۔ اس مقام پر حفاظتی کاموں کا ڈیزائن تیار کرنے کا عمل جاری ہے۔کلومیٹر 25+250 پر ایک اور پل کو نقصان پہنچا اور پانی اس کے اوپر سے گزر گیا، جس کے بعد رابطہ برقرار رکھنے کے لیے بیلی برج نصب کیا گیا۔دستاویز کے مطابق ایک اسٹرکچرل ماہر نے متاثرہ مقام کا دورہ کرکے مطلوبہ ڈیٹا اکٹھا کیا، جبکہ مستقل تعمیراتی کاموں کے لیے ڈیزائن کی تیاری جاری ہے۔ایم این جے سی (این-15) کو بھی کئی مقامات پر مٹی کے بہاؤ، لینڈ سلائیڈنگ اور بڑے پتھروں کے گرنے سے نقصان پہنچا۔

لوشی کے قریب کلومیٹر 216 سے 217 کے درمیان مٹی کے بہاؤ، لینڈ سلائیڈنگ اور بڑے پتھروں کے گرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح کے واقعات کلومیٹر 214، 217 اور 222 پر بھی پیش آئے، جبکہ کلومیٹر 228 سے 229 کے درمیان کا حصہ بھی مٹی کے بہاؤ، لینڈ سلائیڈنگ اور بڑے پتھروں سے متاثر ہوا۔این-15 پر متاثرہ مقامات سے ملبہ معمول کی دیکھ بھال کے انتظامات کے تحت صاف کر دیا گیا ہے۔مجوزہ بحالی پروگرام میں اب این-15 اور قراقرم ہائی وے کے بڑے حصوں کی اسٹرکچرل بحالی، تتہ پانی میں رِجڈ پیومنٹ، جگلوٹ-سکردو روڈ پر سلائیڈ شیلٹرز اور نقصان زدہ ڈھانچوں کی مستقل بحالی کے کام شامل ہیں، جن کے ڈیزائن تیار کیے جا رہے ہیں۔