اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں(این سی ایس ڈبلیو)نےشدت پسند اور عسکری تنظیموں کی جانب سے خواتین کے استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان کی ماؤں اور خواتین کے حوصلے، استقامت اور امن سے وابستگی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے جو طویل مشکلات کے باوجود تشدد کو مسترد کرتے ہوئے خاندانی اور معاشرتی ہم آہنگی کو قائم رکھے ہوئے ہیں، یہ خواتین پاکستان …
این سی ایس ڈبلیو کا بلوچستان کی ماؤں، خواتین کے حوصلے، استقامت اور امن سے وابستگی کو خراجِ تحسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں(این سی ایس ڈبلیو)نےشدت پسند اور عسکری تنظیموں کی جانب سے خواتین کے استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان کی ماؤں اور خواتین کے حوصلے، استقامت اور امن سے وابستگی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے جو طویل مشکلات کے باوجود تشدد کو مسترد کرتے ہوئے خاندانی اور معاشرتی ہم آہنگی کو قائم رکھے ہوئے ہیں، یہ خواتین پاکستان کی اصل طاقت اور وحدت کی علامت ہیں۔ منگل کو این سی ایس ڈبلیو سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ پاکستان سے لے کر محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت تک، پاکستانی خواتین نے قومی تعمیر اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آج بھی بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع میں خواتین سماجی مضبوطی اور امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
خواتین کو جبر، تشہیر اور پرتشدد سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنا ان کے بنیادی انسانی حقوق، وقار اور حقِ زندگی و سلامتی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ خواتین کبھی بھی تنازع کا ہتھیار نہیں بن سکتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تنازعاتی علاقوں میں خواتین زیادہ تر تشدد کی شکار ہوتی ہیں۔ شدت پسند عناصر غربت، عدم مساوات، تعلیم کی کمی اور کمزور حفاظتی نظام سے فائدہ اٹھا کر خواتین کو نشانہ بناتے ہیں۔این سی ایس ڈبلیو نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اور مربوط اقدامات کے تحت خواتین و بچیوں کی تعلیم و صحت تک رسائی، نفسیاتی معاونت، معاشی خودمختاری، انتہاپسندی کی روک تھام اور مؤثر حفاظتی و شکایتی نظام کو یقینی بنایا جائے۔کمیشن نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ خواتین امن، سلامتی اور ترقی کا مرکزی ستون ہیں۔
ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کو استحصال سے بچایا جائے، ان کی آواز کو تقویت دی جائے اور ان کے وقار و حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔








