پمز ہسپتال کے بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں اے سی بلاسٹ ہونے کے باعث آگ لگی، مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال پمز ہسپتال پہنچ گئے،دلخراش واقعے کے بعد صورتحال کا جائزہ اور متاثرہ بچوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال پمز ہسپتال پہنچ گئے، جہاں انہوں نے دلخراش واقعے کے بعد صورتحال کا جائزہ لیا اور متاثرہ بچوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ واقعے میں 14 شہادتیں ہوئی ہیں، اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی دلخراش سانحہ ہے، واقعے میں جس کی بھی غلطی یا کوتاہی سامنے آئی اسے نہیں چھوڑا جائے گا اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ سب سے پہلے میں نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے، واقعہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر پیش آیا، ابتدائی طور پر اے سی کے اندر سے ایک شعلہ نکلنے کی بات سامنے آئی جب کہ 6 بج کر 39 منٹ کی ویڈیو میں کمرے سے لوگوں کو نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ واقعے کے وقت 15 بچے آکسیجن پر تھے جب کہ ساتھ والے کمرے میں موجود چار بچوں کو ریسکیو کر لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال میں ہونے والی تحقیقات سے میڈیا کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔اُنہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم سے کچھ دیر بعد ملاقات کے لیے جائوں گا۔ استعفے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ابھی جتنا کہہ سکتا تھا کہہ دیا۔وفاقی وزیر صحت نے وزیراعظم کو اپنا باس قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو معطل کرنے کا اختیار وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا استحقاق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال میں مسائل موجود ہیں، تاہم واقعے کی مکمل رپورٹ آئندہ دو سے تین دن میں سامنے آ جائے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ رپورٹ سب کے سامنے پیش کی جائے گی اور واقعے کا جو بھی ذمہ دار ہو گا، اسے نہیں بخشا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے وزارتِ صحت کا قلمدان سنبھالے ایک سال دو ماہ ہوئے ہیں، حکومت واقعے کی تحقیقات کروا رہی ہے اور ذمہ داروں کا تعین رپورٹ کی روشنی میں کیا جائے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چند سال قبل ہسپتال کے بچوں کے وارڈ سے بچے چوری ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے تھے جس کے بعد سکیورٹی انتظامات سخت کئے گئے اور گارڈ تعینات کر کے افراد کی چیکنگ کے بعد انہیں اندر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔








