اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) نے 16 روزہ انسداد تشدد مہم کا آغاز منگل کو یہاں پاکستان کے پہلے جدید ملٹی چینل جینڈر بیسڈ وائلنس کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس-II)، ڈیجیٹل سیفٹی ویڈیو سیریز اور ٹیکنالوجی سے جڑے صنفی تشدد (ٹی ایف جی بی وی) سے متعلق قومی آگاہی مہم کے اجرا کے ساتھ کیا۔ یہ اقدامات پی کے سرٹ کے …
این سی ایس ڈبلیو کی ٹیکنالوجی سے جڑے تشدد کے خلاف قومی مہم کا آغاز، ڈیجیٹل سیفٹی کمپین اور جدید ملٹی چینل جی بی وی رپورٹنگ سسٹم متعارف

مزید خبریں
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) نے 16 روزہ انسداد تشدد مہم کا آغاز منگل کو یہاں پاکستان کے پہلے جدید ملٹی چینل جینڈر بیسڈ وائلنس کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس-II)، ڈیجیٹل سیفٹی ویڈیو سیریز اور ٹیکنالوجی سے جڑے صنفی تشدد (ٹی ایف جی بی وی) سے متعلق قومی آگاہی مہم کے اجرا کے ساتھ کیا۔ یہ اقدامات پی کے سرٹ کے اشتراک سے کیے گئے ہیں۔اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو ام لیلیٰ اظہر نے کہا کہ 16 روزہ مہم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر عورت اور بچی کا وقار، سلامتی اور انصاف بنیادی حق ہے۔
نہوں نے بتایا کہ اس سال کا عالمی موضوع ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑھتے ہوئے تشدد کی سنگین نوعیت کو اجاگر کرتا ہے، جس کے لیے فوری سرمایہ کاری اور مربوط قومی اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہراسگی، بلیک میلنگ، تصاویر کے غلط استعمال، جعلی شناخت، ڈیپ فیک اور گمراہ کن معلومات جیسے جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں 1.8 ارب خواتین کے پاس اب تک ڈیجیٹل تشدد سے متعلق قانونی تحفظ موجود نہیں۔یہ اعداد ہمیں مزید تاخیر کی اجازت نہیں دیتے۔وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل نے کہا کہ ڈیجیٹل جرائم تیزی سے پیچیدہ ہو رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال نے خطرات بڑھا دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیا سی ایم ایسII رپورٹنگ، رازداری اور شفافیت میں بہتری لائے گا اور صوبائی سطح پر انصاف کی رسائی کو مضبوط کرے گا۔پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق صبا صادق نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل تشدد کے خلاف قانون سازی اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔پی کے سرٹ کی ڈائریکٹر لیبز عدیلہ وقار نے کہا کہ ڈیپ فیک، سائبر سٹاکنگ، ہراسگی اور ڈیجیٹل غلط معلومات کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ این سی ایس ڈبلیو اور پی کے سرٹ نے شہریوں خصوصاً خواتین کو آن لائن خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے متعدد ڈیجیٹل سیفٹی ویڈیوز تیار کی ہیں۔
سیکرٹری حمیرا ضیاء مفتی نے سی ایم ایس-II کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں موبائل ایپ، ویب پورٹل، واک ان سینٹرز اور جلد آنے والی ہیلپ لائن کے ذریعے شکایات درج کرائی جا سکیں گی، ساتھ ہی سی این آئی سی ویریفیکیشن، شکایت ٹریکنگ اور ضلع وار ڈیش بورڈ بھی شامل ہیں۔
اس موقع پر چیئرپرسن ام لیلیٰ اظہر نے "خودی ڈیجیٹل سیفٹی سیریز” کے اجراء کا بھی اعلان کیا، جو خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو آن لائن خطرات، شناخت کے تحفظ، رضامندی اور جھوٹی خبروں کی پہچان سے متعلق رہنمائی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ این سی ایس ڈبلیو کی نئی ٹی ایف جی بی وی مہم ڈیپ فیک، جھوٹی معلومات، سائبر سٹاکنگ اور آن لائن استحصال جیسے بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔








