سپریم کورٹ نے بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والی بیوہ کو الاٹ زمین پر رشتہ داروں کا دعویٰ مسترد کردیا

سپریم کورٹ نے بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والی بیوہ نواب بی بی کے حق میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا سال 2000 کا حکم اور ہائیکورٹ کا 2014 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا۔سپریم کورٹ نے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عبدالکریم پاکستان بننے سے قبل ہی فوت ہوچکے …

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والی بیوہ نواب بی بی کے حق میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا سال 2000 کا حکم اور ہائیکورٹ کا 2014 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا۔سپریم کورٹ نے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عبدالکریم پاکستان بننے سے قبل ہی فوت ہوچکے تھے جبکہ جس زمین پر فریقین نے حصے کے حصول کا دعویٰ کیا وہ کبھی عبدالکریم کی ملکیت رہی ہی نہیں۔

عدالت کے مطابق عبدالکریم کی بیوہ نواب بی بی نے قیام پاکستان کے بعد ذاتی حیثیت میں مستقل آبادکاری کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کی درخواست دی تھی۔ درخواست بھارت میں نقل مکانی کے باعث چھوڑی گئی زمین کے عوض پاکستان میں زمین حاصل کرنے کے لیے دائر کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ چیف سیٹلمنٹ اتھارٹیز نے بیوہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے 1963 میں اسے زمین الاٹ کی تھی۔ بعد ازاں نواب بی بی نے الاٹ کی گئی زمین اپنی بیٹی کو تحفے میں دے دی جسے فریقین نے چیلنج کردیا ۔

عدالت نے قرار دیا کہ جائیداد ایک بے گھر ہجرت کرنے والی بیوہ خاتون کو الاٹ کی گئی تھی جبکہ فریقین نے نہ تو بھارت سے ہجرت کرکے آنے کا دعویٰ کیا اور نہ ہی خود کو نقل مکانی کرنے والے افراد کے طور پر پیش کیا۔سپریم کورٹ کے مطابق مرحوم عبدالکریم کے رشتہ دار کا جائیداد پر دعویٰ صرف بھارت میں چھوڑی گئی زمین کی حد تک ہوسکتا ہے پاکستان میں الاٹ کی گئی اس زمین پر نہیں جو عبدالکریم کی ملکیت کبھی رہی ہی نہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کا سال 2000 کا حکم اور ہائیکورٹ کا 2014 کا فیصلہ برقرار نہیں رہ سکتا لہٰذا دونوں فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

مزید خبریں