این ڈی ایم اے میں آفات کے دوران سرچ اینڈ ریسکیو کے حوالے سے پہلی جامع فرضی مشق کا انعقاد

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے)میں آفات کے دوران سرچ اینڈ ریسکیو کے حوالے سے پہلی جامع فرضی مشق کا انعقاد کیا گیا۔بدھ کواین ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی)، این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں تلاش اور بچائو کے حوالے سے پہلی فرضی مشق کا انعقاد ہوا

اسلام آباد۔22اپریل (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے)میں آفات کے دوران سرچ اینڈ ریسکیو کے حوالے سے پہلی جامع فرضی مشق کا انعقاد کیا گیا۔بدھ کواین ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی)، این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں تلاش اور بچائو کے حوالے سے پہلی فرضی مشق کا انعقاد ہوا جس کا مقصد سرچ اینڈ ریسکیو وسائل کے مرکزی اور مربوط نظام کے ذریعے پاکستان کے آفات سے نمٹنے اور خطرات کے تدارک کے نظام کو مزید مضبوط اور موثر بنانا تھا۔یہ مشق این ای او سی کی جانب سے جاری کردہ مختلف ممکنہ خطرات کے منظرناموں بالخصو ص مون سون کے دوران درپیش خطرات بشمول سیلابی صورتحال کے تناظر میں ضروری اقدامات اور متعلقہ اداروں کے مابین معاونتی دائرہ کار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ این ڈی ایم اے کا مرکزی پلیٹ فارم ہے اور ممکنہ خطرات کے لیے جدید موسمی پیشگوئی، سیٹلائٹ ڈیٹا کی فراہمی اور بر وقت انتباہ کویقینی بنا رہا ہے تا کہ عوام اور متعلقہ ادارے خطرات کے تدارک کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنا سکیں۔یہ مشق آئی این ایس اے آر فریم ورک کے تحت منعقد کی گئی جس میں پی ڈی ایم ایز، ایس ڈی ایم اے، جی بی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، مسلح افواج، وفاقی و صوبائی اور متعلقہ فلاحی ادارے اور تربیت یافتہ رضاکاروں نے شرکت کی۔اس فرضی مشق میں بیک وقت متعدد خطرات کے منظرنامے شامل کیے گئے جن میں گلگت بلتستان میں گلیشیائی جھیل کے پھٹنے ، مختلف صوبوں میں وسیع پیمانے پر سیلابی صورتحال اور اسلام آباد و مظفرآباد میں زلزلہ شامل تھا۔منظر ناموں کے تناظر میں تمام متعلقہ اداروں کے اقدامات اور تیاری کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے سوال و جواب کے سیشن میں حصہ لیتے ہوئے پانچ علاقائی آئی این ایس اے آرٹیموں کے تحت مربوط ریسپانس کا مظاہرہ کیا جس میں پیشگی آگاہی اور ریسپانس کے لیے موثر رابطے،بر وقت معلومات کا تبادلہ اور یکساں کمانڈ سسٹم پر خصوصی توجہ دی گئی۔ علاقائی سطح پر رضاکاروں کے کردار کو بطور اہم اکائی اجاگر کیا گیا جبکہ عوام تک بروقت معلومات کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صلاحیتوں کا پیشگی جائرہ اور ریسپانس سسٹم میں موجودہ خلاء کو پر کرتے ہوئے نظام کو مزید موثر اور مربوط بنانا ناگزیر ہے تاکہ قدرتی آفات کے خطرات اور ممکنہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کی طرف سے پیشگی اقدامات کے لیے این ای او سی کی موسمی پیشگوئی، خطرات کے تعین اور بروقت وارننگ جاری کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ شرکا نے این ڈی ایم اے کی اس کاوش کو سراہا اور اس مشق کو مستقبل کی تیاریوں کو مزید موثر بنانے میں اہم قرار دیا۔ این ڈی ایم اے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسی مشقوں کو قومی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے گا اور این ای او سی کو ارلی وارننگ، رسک کمیونیکیشن اور پیشگی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے قومی مرکز کے طور پر مزید مضبوط کیا جائے گا۔