این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے لئے جھیلوں کے پھٹنے کے باعث ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا۔ منگل کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق جاری مون سون بارشوں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث تیزی سے پگھلتے گلیشئرز کے پیش نظر گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ …
این ڈی ایم اے کا گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے لئے جھیلوں کے پھٹنے کے باعث ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے لئے جھیلوں کے پھٹنے کے باعث ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا۔ منگل کو این ڈی ایم اے سے جاری بیان کے مطابق جاری مون سون بارشوں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث تیزی سے پگھلتے گلیشئرز کے پیش نظر گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ بڑھ گیا۔ غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، دیامر، استور، سکردو، گانچھے، خرمنگ اور وادی نیلم کے علاقے حساس قرار دیئے گئے ہیں۔چترال، اپر و لوئر دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، مانسہرہ، بونیر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بھی اچانک سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ اداروں کو حساس گلیشیئرز، جھیلوں، دریاؤں اور ندی نالوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ عوام گلیشیئر سے آنے والے دریاؤں، ندی نالوں اور دیگر خطرناک علاقوں میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، اچانک پانی کی سطح بڑھنے، پانی میں غیر معمولی مٹی کے رنگ یا گلیشیئرز کے قریب غیر معمولی صورتحال کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔این ای او سی نے خطہ پوٹھوہار اور بالائی خیبر پختونخوا کے لئے بھی گرج چمک کے ساتھ شدید اور موسلا دھار بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا۔اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، مری، گلیات اور ملحقہ علاقوں میں 2 سے 5 ستمبر کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے جبکہ دیر، سوات، بونیر، ملاکنڈ، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، نوشہرہ، صوابی، مردان اور پشاور میں بھی شدید بارش کا بھی امکان ہے۔
شدید بارش کے دوران شہری علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال جبکہ پہاڑی علاقوں میں بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ عوام نشیبی علاقوں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔این ڈی ایم اے نے عوام کو موسمی صورتحال، ابتدائی انتباہات اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات سے باخبر رہنے کی ہدایت کی۔این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے، مقامی انتظامیہ کو بروقت حفاظتی اقدامات یقینی بنانے اور شہریوں کو موسمی صورتحال سے باخبر رہنے کی ہدایت کی ہے۔
عوام تازہ ترین معلومات اور الرٹس کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے استفادہ کریں۔این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں ضروری وسائل پیشگی منتقل کرنے اور محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ عوام سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہاؤ کو عبور کرنے سے گریز کریں اور جاری کردہ ٹریفک ہدایات پر عمل کریں۔سیلابی خطرے سے دوچار آبادیوں کے رہائشی، سیاح اور مسافر ندی نالوں اوردریا کے کناروں سے دور رہیں۔مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سفر سے پہلے موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں، اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کریں۔ یاد رکھیں، تیز بہاؤ والا پانی خواہ کم گہرا ہی کیوں نہ دکھائی دے، انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور انسانوں یا گاڑیوں کو بہا لے جا سکتا ہے۔مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہاؤ میں اچانک شدید اضافہ بھی ہو سکتا ہے لہذا ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں اور تیز بہاؤ والے پانی کے ریلوں سے دور رہیں۔
احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں۔این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے مسلسل اور بروقت معلومات اور الرٹس کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔عوام این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ”سے بروقت معلومات حاصل کریں۔ کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال میں مدد کے لئے 911ڈائل کریں۔








