ایوانِ بالا میں قانون سازوں کا بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے موثر اقدامات پر زور، دپشت گردی کی تمام اشکال کی مذمت

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):ایوانِ بالا میں قانون سازوں نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے جامع سیاسی حکمتِ عملی اپنانے ، صوبے میں پائیدار امن کے لئے موثر اقدامات اور معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کے قتل میں ملوث عناصر کے لئے زیرو ٹالرنس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کی ہے۔ پیر کو سینیٹ اجلاس میں …

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):ایوانِ بالا میں قانون سازوں نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے جامع سیاسی حکمتِ عملی اپنانے ، صوبے میں پائیدار امن کے لئے موثر اقدامات اور معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کے قتل میں ملوث عناصر کے لئے زیرو ٹالرنس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کی ہے۔

پیر کو سینیٹ اجلاس میں اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لئے ایک نیا قومی ایکشن پلان مرتب کرنے کی ضرورت ہے جس میں سیاسی مکالمہ، ترقی، نمائندگی اور اعتماد سازی کے اقدامات کو مرکزی حیثیت دی جائے۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے سابق نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ سیاسی مذاکرات، ترقیاتی عمل، عوامی نمائندگی اور اعتماد سازی کے ذریعے ہی صوبے میں پائیدار امن ممکن ہے۔

سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہ برسوں پر محیط مسائل کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور عوام نے طویل عرصہ سے اس صورتحال کا سامنا کیا ہے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملیوں کی مؤثریت پر روشنی ڈالی۔

سینیٹر ناصر محمود نے دہشت گردوں سے مذاکرات کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کے قتل میں ملوث عناصر کے لئے زیرو ٹالرنس ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ان افراد سے بات چیت ممکن ہے جو تشدد ترک کر کے ہتھیار ڈال دیں جبکہ دہشت گردی کا مقابلہ قومی اتحاد کے ساتھ کیا جانا چاہئے۔