اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):ایوانِ بالا نے پاکستان کی جانب سے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کی حقِ خودارادیت کے لیے جاری منصفانہ جدوجہد کی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کے اعادے پر مبنی قرار داد کی متفقہ منظوری دے دی ۔یہ قرارداد جمعہ کو ایوان میں وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سرحدی امور انجینئر امیر مقام نے پیش کی۔ ایوان …
ایوانِ بالا نے کشمیر ی عوام کی حقِ خودارادیت کے لیے جاری منصفانہ جدوجہد کی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کے اعادے پر مبنی قرار داد کی متفقہ منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):ایوانِ بالا نے پاکستان کی جانب سے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کی حقِ خودارادیت کے لیے جاری منصفانہ جدوجہد کی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کے اعادے پر مبنی قرار داد کی متفقہ منظوری دے دی ۔یہ قرارداد جمعہ کو ایوان میں وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سرحدی امور انجینئر امیر مقام نے پیش کی۔
ایوان نے جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام کی جرات، ثابت قدمی اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔قرارداد میں بھارت کی جانب سےبھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنے اور 5 اگست 2019 کے یکطرفہ و غیر قانونی اقدامات کے بعد اس کے عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ تشخص کو کمزور کرنے کی مسلسل کوششوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ایوان نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کی آئینی اور متنازعہ حیثیت میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلیاں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا متبادل نہیں بن سکتیں، جیسا کہ یہ حق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔
سینیٹ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کرے تاکہ جموں و کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ایک بنیادی تنازع ہے جس کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔








