اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ایوان کے تقدس کا خیال رکھنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے‘ اپوزیشن نے جس رویے کا مظاہرہ کیا اس سے ایوان کی بے توقیری ہوتی ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں سید نوید قمر کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ کے جواب میں سپیکر نے کہا کہ ایوان کے تقدس کا خیال رکھنا حکومت …
ایوان کے تقدس کا خیال رکھنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے‘ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ایوان کے تقدس کا خیال رکھنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے‘ اپوزیشن نے جس رویے کا مظاہرہ کیا اس سے ایوان کی بے توقیری ہوتی ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں سید نوید قمر کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ کے جواب میں سپیکر نے کہا کہ ایوان کے تقدس کا خیال رکھنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ان کے پاس آئیں اور بات کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قواعد کا خیال رکھا جائے۔ ایسی حرکتوں سے ایوان کی بے توقیری ہوتی ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے سید نوید قمر کے نکتہ اعتراض کے جواب میں کہا کہ ایوان حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں مل کر چلاتے ہیں۔ ایوان کے قواعد و ضوابط اور ایوان کے کسٹوڈین کی تکریم ہم سب کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ گزشتہ اجلاس میں سپیکر کی چیئر کا جس طرح گھیرائو کیا گیا‘ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینکی گئیں۔ اس وقت اجلاس کے صدر نشیں کے لئے سانس لینا بھی محال ہوگیا یہ صورتحال ساری دنیا نے دیکھی ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سیٹیاں بجائی گئیں اور چیئر کی بے توقیری اور گھیرائو کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر دونوں اطراف کے نمائندوں کو اپنے چیمبر میں بلا کر بات چیت کریں تاکہ ایوان کی توقیر اور قواعد و ضوابط کا آئندہ خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ واک آئوٹ اپوزیشن کا حق ہے۔ اپوزیشن نے قومی سلامتی کمیٹی اور بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاسوں کا بھی بائیکاٹ کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپیکر چیئر کی تکریم کی جائے۔








