بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی 70ویں جنرل کانفرنس آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں شروع ہوگئی، جس میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں کثیرالجہتی تعاون مضبوط بنانے اور عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
ایٹمی عدم پھیلاؤ کے خدشات کے درمیان آئی اے ای اے کی 70ویں جنرل کانفرنس کا آغاز ، عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے تحفظ پر زور

مزید خبریں
ویانا ۔15ستمبر (اے پی پی):بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی 70ویں جنرل کانفرنس آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں شروع ہوگئی، جس میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں کثیرالجہتی تعاون مضبوط بنانے اور عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ویانا میں اقوام متحدہ کے دفتر کی ڈائریکٹر جنرل مونیکا جوما کے ذریعے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ دنیا اس وقت شدید عالمی بے یقینی اور بحران کا شکار ہے، جوہری تنصیبات پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جوہری پھیلاؤ کے عوامل تیز ہو رہے ہیں جبکہ اس کی روک تھام کے لیے حفاظتی نظام کمزور پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا جوہری توانائی کی پیداوار میں ایک بڑے انقلاب کے دہانے پر ہے، جس کے لیے محتاط انتظام اور نگرانی ضروری ہے۔ ایسے وقت میں دنیا کو آئی اے ای اے کی پیشہ ورانہ صلاحیت، غیر جانب داری اور فنی مہارت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ (این پی ٹی) عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی کشیدگی اور باہمی عدم اعتماد کے موجودہ ماحول میں قانونی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے آئی اے ای اے کی حمایت اور اس کے مقاصد کے حصول کے لیے کام کرنا ضروری ہے۔
رافیل گروسی نے خبردار کیا کہ زیادہ جوہری ہتھیاروں اور زیادہ ممالک کے جوہری ہتھیاروں سے لیس ہونے والی دنیا زیادہ محفوظ نہیں ہوگی۔18 ستمبر تک جاری رہنے والی کانفرنس میں آئی اے ای اے کے رکن ممالک کے تقریباً 4 ہزار اعلیٰ حکام و نمائندوں کے علاوہ عالمی اور غیر سرکاری تنظیموں کے وفود شریک ہیں۔1957 میں آئی اے ای اے کے قیام کے بعد سے ہر سال منعقد ہونے والی جنرل کانفرنس میں جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال، توانائی کی پیداوار، کینسر کے علاج، غذائی تحفظ، آبی وسائل کے انتظام، جوہری سلامتی اور حفاظتی اقدامات سمیت مختلف امور پر غور کیا جاتا ہے۔








