اسلام آباد۔13دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ہائرایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی ) اور برٹش کونسل کی جانب سے پاک۔یوکے ایجوکیشن گیٹ وے شراکت داری کے ایک کروڑ پائونڈ کے دوسرے مرحلے کے آغاز کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ گیٹ وے برطانیہ شراکت داری سے عالمی معیار کے اداروں کو پاکستان کے ہم منصب اداروں کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی، …
ایچ ای سی اور برٹش کونسل کی جانب سے پاک۔یوکے ایجوکیشن گیٹ وے شراکت داری کے ایک کروڑ پائونڈ کے دوسرے مرحلے کے آغاز

مزید خبریں
اسلام آباد۔13دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ہائرایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی ) اور برٹش کونسل کی جانب سے پاک۔یوکے ایجوکیشن گیٹ وے شراکت داری کے ایک کروڑ پائونڈ کے دوسرے مرحلے کے آغاز کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ گیٹ وے برطانیہ شراکت داری سے عالمی معیار کے اداروں کو پاکستان کے ہم منصب اداروں کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی، نقل و حرکت اور ترقی کے شعبوں پر کام کرنے میں مدد ملے گی ۔
ایچ ای سی کے مطابق ہفتہ کو ایچ ای سی سیکریٹریٹ میں ایک افتتاحی تقریب منعقد کی گئی جس میں پاک-یوکے ایجوکیشن گیٹ وے پارٹنرشپ کے پہلے مرحلے کی کامیابیوں کا جشن منایا گیا۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی ۔ قائم مقام چیئرپرسن ایچ ای سی ندیم محبوب، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیاء الحق، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور دیگر بھی تقریب میں موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک-یوکے ایجوکیشن گیٹ وے کے ٹھوس نتائج سامنے آئے ہیں۔انہوں نے ایچ ای سی اور برٹش کونسل کی اس دوطرفہ شراکت داری کو فروغ دینے میں کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے جس میں تعاون اور شراکت داری بڑھانے اور ملک کے نوجوانوں کو تعلیم و ہنر سے آراستہ کرنا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم وہ پل ہے جو لوگوں، ثقافتوں اور مستقبل کو جوڑتا ہے۔
قائم مقام چیئرپرسن ایچ ای سی ندیم محبوب نے کہا کہ پاک-یوکے ایجوکیشن گیٹ وے ایک پروگرام ہی نہیں بلکہ یہ نظام سے نظام کی شراکت داری کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے ایچ ای سی-برٹش کونسل شراکت داری کے پس منظر پر روشنی ڈالی اور گیٹ وے اقدام کے تحت حاصل کردہ کامیابیوں کا ذکر کیا ۔چیئرپرسن نے پروگرام کی کامیابی پر تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول برطانیہ اور پاکستان کی حکومتوں، اعلیٰ تعلیمی شعبوں، اور ایچ ای سی اور برٹش کونسل کی ٹیموں کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام نے لاتعداد زندگیوں کو بدلا اور لوگوں کو مسلسل فائدہ پہنچا رہا ہے۔برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا تعلیم ، ترقی اور خوشحالی کی بنیادی اینٹ ہے، پاکستان میں تعلیم کے شعبہ میں ہماری خدمات سے عوام کو مدد ملتی ہے ،سکول کی سطح پر تعلیمی پالیسی میں اصلاحات سے لے کر اعلیٰ تعلیم میں ہماری مضبوط شراکت داری تک عوام کو سہولت میسر آتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اگلا مرحلہ ہمارے پہلے سے مضبوط تعلقات کا عکاس ہے اور دونوں ممالک کے اعلیٰ تعلیمی شعبوں کو ترقی دینے کے مواقع کھولے گا۔
اپنے استقبالیہ کلمات میں ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء الحق نے پاک-یوکے ایجوکیشن گیٹ وے کی اہمیت اجاگر کی جو دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گیٹ وے قیادت کی ترقی، کوالٹی ایشورنس، فاصلاتی تعلیم، بین الاقوامی نقل و حرکت، اور ٹرانس نیشنل ایجوکیشن جیسے کلیدی شعبوں میں ایک فلیگ شپ تعاون ثابت ہوا ہے۔ایچ ای سی کے مطابق، مرحلہ دوم متعدد مواقع کھولے گا اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔
اس سے وظائف، ریسرچ گرانٹس اور دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں کے درمیان تبادلے کے لیے فنڈنگ میں اضافہ ہوگا تاکہ موسمیاتی تبدیلی جیسے مشترکہ چیلنجز پر کام کیا جا سکے۔ ایک سٹارٹ اپ چیلنج فنڈ قائم کیا جائے گا جو پاکستان-یوکے تعاون کو ترقی کے مواقع تلاش کرنے، نئی منڈیاں تلاش کرنے اور تجارتی کامیابی حاصل کرنے میں مدد دے گا۔
یہ شراکت داری پاکستان کے تعلیمی نظام میں اعلیٰ کارکردگی والے قیادت کی ترقی اور اسے سپورٹ کرنے والے گورننس کا باعث بنے گی،جس میں معذور افراد کے لیے کیمپس تک رسائی، سینئر لیڈرشپ پوزیشنز میں خواتین کا کردار، کوالٹی ایشورنس اور معیارات کا تعین، اور زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی یقینی بنانا شامل ہے۔
2018 میں شروع کیا گیا پاک-یوکے ایجوکیشن گیٹ وے کا پہلا مرحلہ دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان 165 شراکتیں قائم کرنے، 2,000 مشترکہ ریسرچ پیپرز، اور 5 ملین پائونڈ ریسرچ گرانٹس دینے میں مددگار ثابت ہوا۔ مرحلہ اول میں کیے گئے کام کی وجہ سے گیٹ وے بین الاقوامی تعاون کی بنیادی اینٹ بن چکا ہے، جو اختراع اور ریسرچ کی برتری کو آگے بڑھا رہا ہے۔ایچ ای سی اور برٹش کونسل کی جانب سے ففٹی ففٹی فنڈنگ کے ساتھ یہ پروگرام برطانیہ اور پاکستان کی یونیورسٹیوں اور اداروں کے درمیان قریبی اور زیادہ باہمی فائدہ مند روابط استوار کرے گا۔








