اسلام آباد۔13دسمبر (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے ملک بھر کی اعلیٰ تعلیمی جامعات میں پیش کئے جانے والے گریجویٹ پروگرامز، بالخصوص ایم ایس/ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگریوں کے معیار کا جامع جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔یہ فیصلہ کوالٹی ایشورنس ایجنسی کی جانب سے ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو دی گئی بریفنگ کے دوران کیا گیا۔ ہفتہ کو جاری کردہ پریس …
ایچ ای سی کا ملک بھر میں جامعات کے ایم ایس/ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے معیار کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔13دسمبر (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے ملک بھر کی اعلیٰ تعلیمی جامعات میں پیش کئے جانے والے گریجویٹ پروگرامز، بالخصوص ایم ایس/ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگریوں کے معیار کا جامع جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔یہ فیصلہ کوالٹی ایشورنس ایجنسی کی جانب سے ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو دی گئی بریفنگ کے دوران کیا گیا۔ ہفتہ کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق انتہائی لچکدار گریجویٹ ایجوکیشن پالیسی کے نفاذ اور ایچ ای سی کی جانب سے وسیع پیمانے پر آگاہی سیشنز اورینٹیشنز اور صلاحیت سازی کی ورکشاپس (جو بالمشافہ اور آن لائن دونوں طریقوں سے منعقد کی گئیں)کے باوجود متعدد اداروں میں گریجویٹ پروگرامز کے معیار، نگرانی، حکمرانی اور تدریسی ترسیل میں سنگین خامیاں بدستور موجود ہیں۔
ان خدشات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالحق نے پاکستان پریسیپس اسٹینڈرڈز اینڈ گائیڈ لائنز کے تحت پروگرام ریویو فار انہانسمنٹ اینڈ ایفیکٹیونیس (PREE) معیارات کے مطابق گریجویٹ پروگرامز کا فوری، ملک گیر جائزہ لینے کی ہدایت جاری کی ہے۔جائزے کے پہلے مرحلے کے تحت منتخب جامعات کو خطوط جاری کر دیے گئے ہیں۔ ایچ ای سی کی مخصوص ٹیمیں جلد ہی جائزہ عمل شروع کریں گی جس میں درج ذیل پہلوؤں پر توجہ دی جائے گی جن میں گریجویٹ پروگرامز کی حکمرانی اور انتظام،سپروژن (نگرانی) کا معیار،تحقیقی دیانت داری اور اخلاقیات،طلبہ کی معاونت اور شکایات کے ازالے کا نظام،تحقیق کا معیار اور تحقیقی ماحول،پروگرام انفراسٹرکچر، تدریس اور جانچ کا نظام اورآؤٹ ریچ اور پیشہ ورانہ انضمام شامل ہیں۔
ایچ ای سی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان میں گریجویٹ تعلیم قومی اور بین الاقوامی معیارِ برتری پر پورا اترے۔ کمیشن نے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس جائزے میں مکمل تعاون کریں اور طلبہ کے بہترین مفاد، تحقیقی پیداوار میں بہتری اور ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے فروغ کے لیے اپنے پروگرامز کو مضبوط بنانے کے لیے پیشگی اقدامات کریں۔








