بہاولپور۔ 05 جون (اے پی پی):ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر ڈاکٹر عائشہ خان کی زیر صدارت کسان کارڈ کے تحت دیے گئے بلا سود قرضہ جات کی ریکوری کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ زراعت کے افسران نے ریکوری فیز تھری کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر ڈاکٹر عائشہ خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کسانوں کی فلاح و …
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر کی زیر صدارت کسان کارڈ کے تحت دیے گئے بلا سود قرضہ جات کی ریکوری کے حوالے سے جائزہ اجلاس

مزید خبریں
بہاولپور۔ 05 جون (اے پی پی):ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر ڈاکٹر عائشہ خان کی زیر صدارت کسان کارڈ کے تحت دیے گئے بلا سود قرضہ جات کی ریکوری کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ زراعت کے افسران نے ریکوری فیز تھری کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر ڈاکٹر عائشہ خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کسانوں کی فلاح و بہبود اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہیں لہٰذا متعلقہ ادارے حکومتی پالیسیوں کے ثمرات کسانوں تک پہنچانے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قرضہ جات کی ریکوری کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران پر زور دیا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی، حکومتی سہولیات اور کسان دوست پروگراموں کے بارے میں کاشتکاروں کو مؤثر آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وہ ان سہولیات سے بھرپور استفادہ کرسکیں اور زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو۔
اجلاس کو ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت محمد شفیق نے بتایا کہ ضلع بہاولپور میں کسان کارڈ اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 26 ہزار 875 کسانوں سے قرضہ جات کی وصولی متوقع ہے، جن میں سے 25 ہزار 956 کسان اپنے واجبات جمع کرا چکے ہیں۔ انہوں نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ مجموعی ریکوری کی شرح 97.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو حکومتی اقدامات اور ضلعی انتظامیہ کی مؤثر نگرانی کا مظہر ہے۔ انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ 3 ارب 447 ملین روپے کے قابل وصول قرضہ جات میں سے اب تک 3 ارب 348 ملین روپے وصول کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ رقم کی وصولی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اجلاس میں محکمہ زراعت کے متعلقہ تحصیلوں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مختلف تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنی اپنی تحصیلوں میں قرضہ جات کی ریکوری مزید تیز کرنے کے احکامات جاری کیے گئے جبکہ باقی ماندہ کیسز کو جلد از جلد نمٹانے اور سو فیصد ہدف کے حصول کے لیے ضروری ہدایات بھی دی گئیں۔ اجلاس میں ریکوری مہم کی مسلسل نگرانی اور باقاعدہ جائزے کے عمل کو جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔








