پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر)کی ڈائریکٹر نیشنل واٹر کوالٹی صائقہ عمران نے کہا ہے کہ پانی کی موثر فلٹریشن اور ٹریٹمنٹ کے لئے مختلف مراحل پر مبنی عمل کے امتزاج کی ضرورت ہوتی ہے
ایکٹیویٹڈ کاربن اکیلا پانی صاف کرنے کا مکمل حل نہیں، آلودگی کے مطابق ٹریٹمنٹ ضروری ہے، صائقہ عمران

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر)کی ڈائریکٹر نیشنل واٹر کوالٹی صائقہ عمران نے کہا ہے کہ پانی کی موثر فلٹریشن اور ٹریٹمنٹ کے لئے مختلف مراحل پر مبنی عمل کے امتزاج کی ضرورت ہوتی ہے جو پانی میں موجود آلودگیوں کی مختلف اقسام کے مطابق ہوں کیونکہ کوئی ایک ٹیکنالوجی پانی کے معیار کے تمام مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔جمعہ کو ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر نیشنل واٹر کوالٹی لیبارٹری صائقہ عمران نے کہا کہ ایکٹیویٹڈ کاربن پانی کے فلٹریشن سسٹم کا ایک اہم جزو ہے لیکن یہ تنہا پانی کو صاف کرنے کے حل کے طور پر کام نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ واٹر ٹریٹمنٹ کے مختلف مراحل مختلف کام انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارٹریج فلٹرز عام طور پر گندگی کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں جبکہ فعال کاربن فلٹرز ناپسندیدہ ذائقہ، بدبو اور رنگ سے منسلک مادوں کو ہٹانے یا کم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
صائقہ عمران کے مطابق کوئلے پر مبنی ایکٹیویٹڈ کاربن کو عام طور پر فلٹریشن سسٹم میں شامل کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں نامیاتی آلودگی اور کلورین سمیت بعض مادوں کو جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی میں مختلف قسم کی آلودگی شامل ہو سکتی ہے جن کے لئے مختلف عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ واٹر ٹریٹمنٹ کے نظام کی تاثیر کا انحصار پانی کے معیار، موجود آلودگی اور ٹریٹمنٹ کے حالات پر ہوتا ہے۔پانی کے معیار کی ماہر نے کہا کہ کاربن فلٹریشن کو پانی صاف کرنے کے عالمی حل کی بجائے مناسب طریقے سے ڈیزائن کیے گئے ٹریٹمنٹ سسٹم کے ایک مرحلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹریٹمنٹ سسٹم کے انتخاب اور ڈیزائن کو پانی کے حقیقی معیار کے جائزہ پر عمل کرنا چاہیے تاکہ مخصوص آلودگیوں سے نمٹنے کے لیے مناسب ٹیکنالوجیز کو یکجا کیا جا سکے۔







