وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ”بی“ ٹیم اور تحریک طالبان افغانستان کی ”سی“ ٹیم ہے، پی ٹی آئی اب دھرنوں سے بھی بھاگ گئی ہے، اگر ہمت ہے تو آئیں اور دھرنا دیں
تحریک انصاف کالعدم ٹی ٹی پی کی ”بی ٹیم“ اور ٹی ٹی اے کی ”سی“ ٹیم ہے، پی ٹی آئی اب دھرنوں سے بھی بھاگ گئی ہے، اگر ہمت ہے تو آئیں اور دھرنا دیں، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ”بی“ ٹیم اور تحریک طالبان افغانستان کی ”سی“ ٹیم ہے، پی ٹی آئی اب دھرنوں سے بھی بھاگ گئی ہے، اگر ہمت ہے تو آئیں اور دھرنا دیں، دہشت گردوں کی سہولت کاری کرنا پی ٹی آئی کی پالیسی کا حصہ ہے، خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں پر دہشت گردوں نے حملے کئے لیکن پی ٹی آئی دہشت گردوں کی منظور نظر رہی۔ جمعہ کو یہاں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال سے صوبائی حکومت نہ صرف لاعلم ہے بلکہ امن و امان کی بہتری کے لیے موثر اقدامات کرنے سے بھی گریزاں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی کیا وجہ ہے کہ ایک صوبائی حکومت جسے اپنے صوبے میں مکمل اختیار حاصل ہے، اس کے باوجود امن و امان کی صورتحال کی بہتری کے لیے اقدامات نہیں کر رہی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی امن و امان کے حوالے سے زیرو پالیسی ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بجائے صوبائی حکومت دہشت گردوں کی سہولت کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا تاہم تحریک انصاف دہشت گردوں کی منظور نظر ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں کی مذمت کرنے اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے مکمل طور پر گریزاں ہے۔ دہشت گردوں کی سہولت کاری کرنا ان کی پالیسی کا حصہ ہے۔ یہ کالعدم ٹی ٹی پی کی ”بی“ ٹیم اور تحریک طالبان افغانستان کی ”سی“ ٹیم ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت تحریک طالبان پاکستان کی مکمل سہولت کاری کر رہی ہے اور تحریک طالبان افغانستان کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سہیل آفریدی اپنے قول و فعل سے وزیر اعلیٰ کم اور ٹی ٹی پی کے کمانڈر زیادہ نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب افغانستان کی جانب سے کوہاٹ پر ڈرون حملے کیے گئے تو پاکستان آرمی اور پاک فضائیہ نے انہیں بڑی مہارت سے ناکام بنایا تاہم خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اس حوالے سے نہ کوئی مذمتی بیان سامنے آیا اور نہ ہی ایسا کوئی اقدام نظر آیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ اس معاملے پر کوئی واضح موقف اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ذمہ داران موقع پر جا کر یہ کہتے ہوئے بھی نظر نہیں آئے کہ پاکستان کی سرزمین پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کرم میں افغانستان کی جانب سے ایف سی کے جوانوں پر فائرنگ کی گئی تاہم خیبر پختونخوا حکومت کے ذمہ داران وہاں بھی یہ کہتے ہوئے نظر نہیں آئے کہ ہم اپنے جوانوں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس طرح کی فائرنگ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ دہشت گردوں کے سہولت کار بھی ہیں۔ یہ بزدلی ہے کہ اب یہ دھرنوں سے بھی بھاگ گئے ہیں، اگر ہمت ہے تو آئیں اور دھرنا دیں۔ میں نے خیبر پختونخوا کا دورہ کیا ہے، وہاں کسی قسم کی تیاری نظر نہیں آئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ امن و امان صوبائی معاملہ ہے، صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 2026ء میں خیبر پختونخوا میں 2456 دہشت گرد حملے ہوئے جو اوسطاً ایک دن میں 10 حملے بنتے ہیں۔ ان دہشت گرد حملوں میں پولیس، فوج، رینجرز اور ایف سی کے 472 افسران اور جوان شہید جبکہ 1500 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت امن و امان کی صورتحال کو بہتر نہیں کرنا چاہتی کیونکہ وہاں ایک پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسس ہے۔ صوبے میں ٹمبر اور تمباکو کی غیر قانونی تجارت، غیر قانونی کان کنی اور گولڈ مائننگ سمیت معدنیات کے کاروبار میں باہمی ملی بھگت سے سرگرمیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی کان کنی اور ٹھیکوں کے ذریعے دہشت گردوں کو مبینہ طور پر فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں اور ان کی سہولت کاری کی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ دہشت گردی کو روکنا نہیں چاہتے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہو اور بے گناہ شہریوں کا خون بہتا رہے تو اسے دنیا کے کسی بھی خطے میں کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے ڈرون آئے اور کرم میں فائرنگ ہوئی تو صوبائی حکومت کے ذمہ داران وہاں سے بھاگ گئے جبکہ ہماری بہادر سکیورٹی فورسز اپنی جگہ ڈٹ کر کھڑی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنگو حملے میں زخمی ہونے والے شخص کی عیادت کے لیے جب وہ سی ایم ایچ کوہاٹ گئے تو زخمی نے کہا کہ ’’ہم بزدل نہیں ہیں، ہمیں صحت یاب ہونے دیں، ہم ان دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔‘‘ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی سہولت کاری، دہشت گردی کو فروغ دینا اور امن و امان کی صورتحال کو دانستہ طور پر بہتر نہ کرنا، یہ تمام چیزیں ہمارے سامنے ہیں۔ دہشت گردی کے فروغ میں ان کا پورا ہاتھ ہے اور بھاگنا ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ یہ پہلے دہشت گردوں سے ہاتھ ملاتے ہیں، ان کی مکمل سہولت کاری کرتے ہیں اور اس کے بعد خود کو سیاسی لوگ کہتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسے عناصر کو اپنے آپ کو سیاسی لوگ کہنے کا حق ہے؟ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، اسے چاہیے کہ پولیس اصلاحات متعارف کرائے۔ پولیس اصلاحات لانے کے بجائے صوبائی حکومت نے ایک ایسا قانون بنا دیا ہے جس کے ذریعے پولیس کو سیاسی فورس بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح ان کی حکومت دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتی ہے، اسی طرح پولیس بھی دہشت گردوں کی سہولت کاری کرے لیکن یہ پاکستان میں نہیں ہو سکتا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارے شہری، جوان، افسران اور سکیورٹی فورسز پوری طرح متحرک ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پوری قوم قربانیاں دے رہی ہے اور ان شاء اللہ ایک دن آئے گا جب دہشت گرد مکمل طور پر پسپا ہوں گے اور ملک سے ان کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کی سہولت کاری سے باز رہے۔ آج تک یہ سننے میں نہیں آیا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کی مذمت کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے اور ملک کی سالمیت اور سلامتی کے لیے کام کرے۔







