ایک مضبوط فوج پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہے، اپوزیشن کی اس ایوان میں ساری تقاریر کا مرکز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی صحت کے گرد رہتی ہیں، اپوزیشن ہر معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورننگ سے گریز کرے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
ایک مضبوط فوج پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہے، اپوزیشن کی اس ایوان میں ساری تقاریر کا مرکز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی صحت کے گرد رہتی ہیں، اپوزیشن ہر معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورننگ سے گریز کرے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر فضل چوہدری نےکہا کہ ایک مضبوط فوج پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہے، اپوزیشن کی اس ایوان میں ساری تقاریر کا مرکز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی صحت کے گرد رہتی ہیں، اپوزیشن ہر معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورننگ سے گریز کرے، جب الیکشن کمیشن ان کی مرضی کے فیصلے کرتا تھا تو چیف الیکشن کمشنر ان کے پسندیدہ تھے انہوں نے تمام انتخابات شفافیت کے ساتھ منعقد کرائے، اس حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے ججز کی تعیناتی میں پارلیمنٹ کا کردار بحال کیا، قائمہ کمیٹیوں کو بااختیار بنایا۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی میں لازمی اخراجات پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ پر بحث کے دوران مختص وقت سے اپوزیشن اور حکومت میں شامل تمام جماعتوں کے اراکین نے زائد وقت بحث میں حصہ لیا جبکہ ان کی جانب سے بحث میں اٹھائے جانے والے نکات کا وزیر خزانہ نے بحث سمیٹتے ہوئے بھرپور احاطہ کیا۔
لازمی اخراجات پر بحث کے دوران اپوزیشن نے تنقید برائے تنقید کی اپوزیشن کی کل گفتگو کا حاصل 5 نکات تھے، ان کی تقاریر کا پہلا نکتہ یہ تھا کہ وہ فرد واحد کے گھومتیں رہیں، ان کی وجہ سے پاکستان کے پورے نظام کو گھومنے کی کوشش کی ہوئی ہے بجٹ پر بحث ہو پارلیمان میں کوئی نکتہ اٹھانا ہو یا عدالتی سسٹم ہو ان سب کو صرف ایک ہی فرد کے گرد گھمایا جا رہا ہے ان کی ہر تقریر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج پر منتج ہوتی ہے، یہ ایوان کوئی مباحثے کا کلب نہیں ہے کہ جہاں صرف سیاسی تقاریر کی جائیں، اپوزیشن میں بھی اچھے اور ٹیکنیکل لوگ موجود ہیں، ان کا مثبت کردار بھی ہے تاہم اس روش کو ترک کرنا ہو گا کہ سیاست کو ہر عمل پر حاوی کر دیا جائے۔ اس سے بجٹ پر بحث کے دوران تقاریر کی افادیت نہیں رہتی۔ انہوں نے کہا کہ لازمی اخراجات کے حوالے سے آئینی نکات کا جواب بیرسٹر عقیل ملک نے مدلل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ اس نے ججز کی تعیناتی میں پارلیمان کا چھینا گیا کردار اسے واپس دلایا۔ اس میں اپوزیشن کی بھی نمائندگی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا غصہ اور ناراضگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج وہ عدالتیں موجود نہیں ہیں جہاں پر ’’گڈٹو سی یو‘‘ کہا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس حکومت کو دوسرا کریڈٹ یہ ہے کہ انہوں نے آئینی مقدمات نمٹانے کیلئے آئینی عدالت قائم کی اور 15 15 سال سے التواء میں پڑے مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں الیکشن کمیشن کے حوالے سے بھی بات کی گئی جب تک ان کی مرضی کے فیصلے آتے رہے تو یہی چیف الیکشن کمشنر ان کے پسندیدہ تھے اور اس وقت ان کی تعریفیں کرتے تھے۔ انہوں نے عام انتخابات ضمنی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات سمیت تمام انتخابات کا شفاف انعقاد کرایا ہے، انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیلئے آئینی مشاورت ضروری ہے تاہم یہ اس طرف نہیں جاتے۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہماری حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ ہم نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کو بااختیار بنایا ہے وہاں پر بجٹ پیش ہوتا ہے اور وہاں سے اس کی منظوری آتی ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کا رویہ یہ ہے کہ جب وزیر خزانہ نے بجٹ تقاریر کا آغاز بھی نہیں کیا تھا تو اپوزیشن نے یہاں پر کھڑے ہو کر نعرے بلند کرنے شروع کئے کہ عوام دشمن، کسان دشمن بجٹ نامنظور، تو میرا سوال ہے کہ بطور پارلیمانی وزیر مجھے بجٹ تقریر کا علم نہیں تھا تو ان تک یہ اطلاعات کیسے پہنچ گئیں کہ یہ بجٹ عوام دشمن ہے، ان کا یہ رویہ غیر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پارلیمان کے اندر انہیں اپنے کردار پر غور کرنے کی ضرورت ہے، پارلیمان کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ اپوزیشن کا بھی اس میں مساوی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی رو سے پارلیمان میں کسی حاضر سروس جج کے حوالے سے توہین آمیز ریمارکس نہیں دیئے جا سکتے یہاں تک کہ کسی پریس کانفرنس یا دیگر جگہ پر بات کرتے ہوئے بھی آپ ایسے ریمارکس نہیں دے سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری قومی سلامتی کے اداروں کیخلاف گفتگو کی جاتی ہے اس کا مطلب پاکستان کے خلاف گفتگو کرنا ہے ریاست کیخلاف گفتگو کرنا ہے، مضبوط فوج اور مضبوط دفاعی ادارے اس ملک کی سلامتی اور مضبوط فیڈریشن کے ضامن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اٹھارہویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات دیئے تاہم خوراک و زراعت، سیاحت ، صحت اور کھیل سمیت بہت سے محکمے صوبوں کے پاس چلے گئے، اس پاکستان کو مضبوط رکھنے کیلئے مضبوط فوج اور مضبوط ادارے ضروری ہیں ان پر بیجا تنقید سے گریز کرنا چاہئے۔ یہ عمل اس ملک کے ساتھ زیادتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح سے آج پاکستان کو چیلنجز کا سامنا ہے ابھی انڈیا کے ساتھ ہماری جنگ ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اس میں ہمیں کامیابی عطا کی، آج امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اللہ کے فضل سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں جس میں وزیراعظم پاکستان نے بطور گارنٹر دستخط کئے ہیں اس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار کا کلیدی کردار رہا ہے ۔ یہ عزت اور وقار پاکستان کے حصے میں آیا، بڑی بڑی قومیں ایسی عزت کا خواب دیکھتے کئی صدیاں گزار لیتی ہیں۔طارق فضل نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا جبکہ نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو جوہری قوت بنایا۔
انہوں نے کہا کہ فوج کے افسران و جوانوں نے جواں عمری میں شہادتیں دی اپنی جان کے نظرانے دیئے اس وطن کے لیے ان کے بچے یتیم ہوئے، ان کے ورثاء کا راستہ دیکھتے رہے تاہم ان والدین کا یہ جذبہ ہے کہ جب ان کے شہید بیٹے کا جسد خاکی ان کے گھر آتا ہے تو وہ اس عزم کا اظہار کرتے ہیں اگر ان کے اور بیٹے بھی ہوتے تو وہ اس وطن پر قربان کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان پر تنقید کر کے اس جذبے کی توہین کرتے ہیں، ہماری آپس میں سیاسی اختلافات اور پنجہ آزمائیاں چلتی رہتی ہیں لیکن ہمیں اس سطح پر نہیں جانا چاہئے، یہاں پر لوگوں کو غدار بھی قرار دیا گیا۔ یہ غداری کے سرٹیفکیٹ ہم نے نہیں بانٹے اور نہ ہی کسی کو کافر قرار دیا۔
انہوں نے آزاد کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کمیٹی کا حصے تھے جنہوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کئے، ہم نے ان کے ساتھ جو معاہدہ کیا اس کے اکثریتی نکات پر عملدرآمد کر چکے ہیں اس حوالے سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر مکمل جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت 36 وزارتوں کا حجم کم کر کے 20 پر لایا گیا اور آج کوئی بھی مہاجر رکن وہاں پر وزیر نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کبھی کسی پرتشدد ہجوم کے کہنے پر کسی ملک کی ریاست یا ملک کی کابینہ کے سائز کا تعین اس طرح کیا جاتا ہے، اس طرح سے یہ مطالبات ماننے کے قابل نہ ہونے کے باوجود ہم نے مانے، کیونکہ کشمیر کا امن اس کا حسن ہمیں عزیز ہے۔
کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ محبت بے مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ آئینی تھا، اس پر یہ فیصلہ ہوا کہ اسے پارلیمان کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ احتجاج کے دوران مظاہرین میں سے جو لوگ جاں بحق یا زخمی ہوئے انہیں فورسز کے برابر معاوضے دیئے گئے۔ ان کیخلاف 177 دہشت گردی کی ایف آئی آرز کا خاتمہ کیا گیا، نئے تعلیمی بورڈ بنائے گئے منگلا ڈیم اپ ریزنگ کے متاثرین کے بجلی کے بل معاف کئے گئے انہیں الاٹمنٹس دی گئیں انہوں نے کہا کہ ہمیں کشمیر سے محبت ہے وہاں کسی طرح کی افراتفری اور ہنگامہ آرائی نہیں دیکھنا چاہتے۔
ہم نے کسی کو غدار نہیں کہا، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہم تین دن مذاکرات کرتے رہے۔ اس آئینی معاملے پر بلاول بھٹو زرداری اور خواجہ آصف نے بھی ایوان میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کو جو ووٹ کا حق دیا گیا اس کی انہوں نے قیمت ادا کی ہے اس کیلئے انہوں نے اپنا گھر بار چھوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی کو غداری کا سرٹیفکیٹ نہیں بانٹا تاہم جب ایکشن کمیٹی نے تشدد کا راستہ ا ختیار کر لیا تو اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں کہ قانون اپنا راستہ لے۔








