کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)نے وزارتِ توانائی کی جانب سے بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی، ادائیگیوں سے متعلق ذمہ داریوں سے نمٹنے اور گردشی قرض کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے جامع اصلاحاتی پیکج کی منظوری دے دی ، ای سی سی نے کئی وزارتوں اورڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری دی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کویہاں …
ای سی سی نے بجلی کے شعبہ میں جامع اصلاحات کے پیکج کی منظوری دیدی، کئی وزارتوں اورڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری

مزید خبریں
اسلام آباد۔6مارچ (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)نے وزارتِ توانائی کی جانب سے بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی، ادائیگیوں سے متعلق ذمہ داریوں سے نمٹنے اور گردشی قرض کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے جامع اصلاحاتی پیکج کی منظوری دے دی ، ای سی سی نے کئی وزارتوں اورڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری دی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کویہاں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹرمحمداورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے انٹرنیشنل انرجی فورم کے لیے پاکستان کی سالانہ شراکت کی ادائیگی کے لیے 13.1 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ سے متعلق سمری کی منظوری دی گئی۔
کمیٹی کو بتایاگیا کہ انٹرنیشنل انرجی فورم کی رکنیت برقرار رکھنا عالمی توانائی کے عالمی مکالمے اور تعاون میں پاکستان کی شرکت کے لیے بدستور اہم ہے۔ اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے گیس پیدا کرنے والے فیلڈز کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع دیہات میں گیس فراہمی کی اسکیموں کے لیے 3 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی گئی ۔یہ اسکیمیں سوئی سدرن اورسوئی نادرن کے ذریعے مکمل کی جائیں گی۔ ای سی سی نے وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز کے اساتذہ کو بقایا واجبات کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کیلئے جاری مالی سال کے دوران 200 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی فراہمی کی بھی منظوری دیدی، یہ مالی ذمہ داری عدالت کی ہدایات کی روشنی میں ہے جن کے تحت اگست 2017 سے جون 2021 کے عرصے کے لیے نوٹیفائیڈ کم از کم اجرتوں کے مطابق تنخواہوں کے فرق کی ادائیگی کرنا ہے۔
اجلاس میں وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے پیش کی گئی ایک اور سمری کا بھی جائزہ لیاگیا جس میں ری اسٹرکچرڈ ہائر ایجوکیشن ڈیولپمنٹ ان پاکستان منصوبے کے تحت ہائیرایجوکیشن کمیشن کے لیے مختص اضافی 4 ملین ڈالر پر ری لینڈنگ کی شرائط سے استثنا طلب کیا گیا تھا۔ ای سی سی کو بتایا گیا کہ عالمی بینک نے ان فنڈز کو انویسٹمنٹ پراجیکٹ فنانسنگ/ٹیکنیکل اسسٹنس جزو کی طرف منتقل کیا ہے، جس کے نتیجے میں ہائیرایجوکیشن کمیشن کا حصہ پہلے سے مستثنیٰ قرار دیے گئے 77 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ گیا ہے۔اجلاس میں این ڈی ایم اے کی جانب سے مون سون رسپانس 2025 آپریشنز اور بیرونِ ملک انسانی ہمدردی کی امداد کے دوران کیے گئے اخراجات کی واپسی کے لیے 3.63 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ سے متعلق سمری کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے جاری مالی سال کے دوران سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گولز اچیومنٹ پروگرام کی اسکیموں کے نفاذ کے لیے 1.3 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کی جانب سے بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی، ماضی کی ادائیگیوں سے متعلق ذمہ داریوں سے نمٹنے اور پاور سیکٹر میں گردشی قرض کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے جامع اصلاحاتی پیکج کی تجویز کاجائزہ لیاگیا۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مجوزہ اقدامات متعدد پاور پروڈیوسرز کے ساتھ مذاکرات کا نتیجہ ہیں اور ان کا مقصد ٹیرف کے ڈھانچے کو معقول بنانا، ادائیگیوں کے انتظامات کو مؤثر بنانا اور باہمی طور پر طے شدہ تصفیوں کے ذریعے بقایا مالی ذمہ داریوں کو حل کرنا ہے۔ ای سی سی نے اصلاحاتی پیکج اور اس سے متعلق مالی اقدامات کی منظوری دے دی اور کہا کہ اس اقدام سے پاور سیکٹر کی پائیداری میں بہتری، صارفین پر ٹیرف کے دباؤ میں کمی اور شعبے میں وسیع تر اصلاحات کی حمایت متوقع ہے۔
اجلاس میں وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے عوامی معلومات و آگاہی مہمات سے متعلق بقایا واجبات کی ادائیگی کے لیے 2.231 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ سے متعلق سمری پرکمیٹی نے 1.47 ارب روپے تک کی گرانٹ کی منظوری دی اور وزارت کو باقی گرانٹ ضرورت اگلی سہ ماہی میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک ، وزیرِ تجارت جام کمال خان ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال چوہدری ، وفاقی وزیرِ سرمایہ کاری قیصراحمدشیخ (ورچوئل شرکت )، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوارہارون اخترخان متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔








