ای سی سی نے درآمدی پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کی منظوری دیدی، ابتدائی طور صرف وہ گاڑیاں درآمد کی جا سکیں گی جو پانچ سال سے پرانی نہ ہوں، تجارتی درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی منظوری

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے درآمدی پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت ابتدائی طور صرف وہ گاڑیاں درآمد کی جا سکیں گی جو پانچ سال سے پرانی نہ ہوں، یہ شرط 30 جون 2026 تک لاگو رہے گی جس کے بعد گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کر دی جائے گی، پانچ سال سے کم پرانی …

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے درآمدی پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت ابتدائی طور صرف وہ گاڑیاں درآمد کی جا سکیں گی جو پانچ سال سے پرانی نہ ہوں، یہ شرط 30 جون 2026 تک لاگو رہے گی جس کے بعد گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کر دی جائے گی، پانچ سال سے کم پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی منظوری دیدی گئی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس بدھ کویہاں منعقد ہوا، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے نیویارک سے اجلاس کی ورچوئل صدارت کی۔

اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد سے متعلق سمری پر غور کیا گیا اور تفصیلی بحث کے بعد سفارشات کی منظوری دے دی گئی، اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی اجازت کیلئے درآمدی پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کی منظوری دی گئی، ابتدائی طور پر صرف وہ گاڑیاں درآمد کی جا سکیں گی جو پانچ سال سے پرانی نہ ہوں، یہ شرط 30 جون 2026 تک لاگو رہے گی جس کے بعد گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کر دی جائے گی۔ کمیٹی نے مزید ہدایت کی کہ ایسی تجارتی درآمد صرف ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر سختی سے عمل درآمد کے تحت ہی ممکن ہوگی۔

ای سی سی پانچ سال سے کم پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی منظوری دیدی، یہ اضافی ڈیوٹی 30 جون 2026 تک نافذ رہے گی، جس کے بعد ہر سال 10 فیصد پوائنٹس کمی کی جائے گی اورٹیرف پالیسی بورڈ کی سفارشات کے مطابق 2029-30 تک اسے صفر پر لے آیا جائے گا۔

اجلاس میں کابینہ ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی ایک اور سمری پر غور کے بعد پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 80 کروڑ روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی سیکرٹریز اور متعلقہ وزارتوں و ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

مزید خبریں