ای سی سی نے پنجاب میں پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام کے لیے 2 ارب روپے اور دفاعی خدمات کے لیے 5.081 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی

اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):کا بینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے پنجاب میں پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام کے لیے 2 ارب روپے اور دفاعی خدمات کے لیے 5.081 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی،اجلاس میں فلم اینڈ ڈرامہ فنانس فنڈ کے لیے 700 ملین روپے مختص کرنے کی بھی منظوری دیدی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو یہاں وزارت …

اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):کا بینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے پنجاب میں پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام کے لیے 2 ارب روپے اور دفاعی خدمات کے لیے 5.081 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی،اجلاس میں فلم اینڈ ڈرامہ فنانس فنڈ کے لیے 700 ملین روپے مختص کرنے کی بھی منظوری دیدی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو یہاں وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پیش کی گئی متعدد تجاویز اور سمریز کا جائزہ لیا گیا جن میں تکنیکی ضمنی گرانٹس کے اجراء کی درخواستیں نیز دیگر اہم پالیسی اور انتظامی امور شامل تھے۔ اجلاس میں دفاع ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی دو الگ الگ سمریوں پر ای سی سی نے جاری مالی سال کے دوران پنجاب میں پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام(ایس اے پی)کے لیے 2 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی۔

کمیٹی نے دفاعی خدمات کے لیے 5.081 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی جس میں استعداد کا ر میں اضافہ،بنیادی ڈھانچہ کی ترقی، کمیونٹی رابطہ کاری اور سائبر سکیورٹی شامل ہیں۔ ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ یہ فنڈز مرحلہ وار جاری کئے جائیں گے اور چونکہ یہ اخراجات مستقل نوعیت کے ہیں اس لیے متعلقہ رقم آئندہ مالی سال سے باقاعدہ دفاعی بجٹ میں شامل کر دی جائے گی۔ اجلاس میں ڈائریکٹوریٹ جنرل خصوصی تعلیم کے لیے 15 کوسٹرز کی فراہمی کی کے ضمن میں 322.87 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی ،

یہ کوسٹرز اسلام آباد میں قائم کیے جانے والے آٹزم سینٹر آف ایکسیلینس میں زیر تعلیم خصوصی بچوں کی آمد و رفت کو سہل بنانے کے لیے فراہم کیے جائیں گے، مرکز آٹزم کی بیماری میں مبتلا کم از کم 300 بچوں کو محفوظ اور معاون تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے قائم کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن کی جانب سے اسلام آباد میں آسان خدمت مرکز کے قیام کے لیے پیش کی گئی سمری پر ای سی سی نے 800 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی،یہ شہری مرکز عوامی خدمات کی فراہمی کا فلیگ شپ منصوبہ ہوگا۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن کی ایک اور سمری پر کمیٹی نے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 3.7 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی جس کا مقصد ڈیجیٹل رابطہ کاری کو مضبوط بنانا، آئی ٹی کے بنیادی ڈھانچہ کو بہتربنانا، ای گورننس کے فروغ اور قومی آئی سی ٹی ایکو سسٹم کی ترقی میں معاونت فراہم کرنا ہے، ای سی سی نے یہ فنڈز مقررہ منصوبوں پر مناسب طور پر خرچ کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وزیرِ اعظم کے 19 ستمبر 2024ء کے فیصلے کے مطابق دریائے سندھ، حب اور بلوچستان کے دریائوں کے ساتھ ڈیجیٹل انفورسمنٹ سٹیشنز کے قیام سے متعلق تجویز کا بھی جائزہ لیاگیا،ای سی سی نے 10 ارب روپے کی مجوزہ تکنیکی ضمنی گرانٹ کے مقابلے میں تیسری سہ ماہی کے لیے 3 ارب روپے کی منظوری دی جبکہ باقی رقم چوتھی سہ ماہی میں مختص کی جائے گی۔ اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ایشیا پٹرولیم لمیٹڈ(اے پی ایل) پائپ لائن کے مستقبل سے متعلق پیش کی گئی سمری پر بھی غور کیا گیا۔

ای سی سی نے نیشنل ٹاسک فورس برائے نفاذ اصلاحات (پاور ڈویژن) کے دائرہ کار میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں پٹرولیم ڈویژن، فنانس ڈویژن، لاء اینڈ جسٹس ڈویژن،خصوصی سرمایہ کاری سہولت کو نسل(ایس آئی ایف سی) اور پاکستان سٹیٹ آئل کے نمائندے شامل ہوں گے، کمیٹی 31 جنوری تک آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرے گی۔ کمیٹی عمل درآمد کے معاہدے کی شرائط بشمول گارنٹی ایگریمنٹ اور لیٹر آف ایگریمنٹ پر اے پی ایل کے ساتھ مذاکرات کرے گی اور ایندھن کی ملکیت اور پائپ لائن کے متبادل استعمال کے بارے میں بھی فیصلہ کرے گی۔

اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے قومی فلم و نشریاتی پالیسی 2018 کے تحت قائم فلم اینڈ ڈرامہ فنانس فنڈ کے لیے 1 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی درخواست کا جائزہ لیاگیا، اس اقدام کا مقصد پاکستان کی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کو مضبوط بنانا اور ذمہ دارانہ اور اعلیٰ معیار کے سکرین مواد کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی فورمز پر ملک کے تزویراتی بیانیہ کو فروغ دیناہے۔

ای سی سی نے 700 ملین روپے مختص کرنے کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وزارت چھ ماہ بعد کمیٹی کو فنڈز کے استعمال سے متعلق رپورٹ پیش کرے جو واضح طور پر متعین کلیدی کارکردگی اشاریوں کے مطابق ہو اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اخراجات مسابقتی اور شفاف طریقے سے کیے جائیں جس میں شعبہ کے اعلیٰ معیار کے پیشہ ورانہ مواد تیار کرنے والوں کی شمولیت یقینی ہو۔

اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر سرمایہ کا ری قیصر احمد شیخ، وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال اور صنعت و پیداوار ڈویژن کے لیے وزیر اعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان نے شرکت کی، متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔