اے آئی کی مہارت رکھنے والے افراد مستقبل کی افرادی قوت کی قیادت کریں گے، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ

"وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی انسانوں کی ملازمتوں کی جگہ نہیں لے گی بلکہ وہ افراد جو مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا جانتے ہیں، مستقبل کی افرادی قوت کی قیادت کریں گے۔”

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہاہے کہ ٹیکنالوجی انسانوں کی ملازمتوں کی جگہ نہیں لے گی بلکہ وہ افراد جو مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا جانتے ہیں، مستقبل کی افرادی قوت کی قیادت کریں گے۔

وہ جمعرات کو یو این ویمن کے زیر اہتمام ’’جینڈر رسپانسیو اے آئی سکول: شمولیتی اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے فروغ ‘‘کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہی تھیں ،جس کا انعقاد وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے یو این ویمن کے اشتراک سے کیا۔شزہ فاطمہ نے کہا کہ پاکستان کو مصنوعی ذہانت پر مبنی دور کے لئے اپنی افرادی قوت کو تیار کرنا ہوگا جس کے لئے ملک بھر میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم اور ٹیکنالوجی کی تربیت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کی تعلیم اب صرف کمپیوٹر سائنس کے طلبہ تک محدود نہیں رہنی چاہئے بلکہ یہ ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور پیشہ ور افراد کے لئے ایک بنیادی مہارت بن چکی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کام کر رہی ہے کہ اے آئی سے متعلق علم اور جدید ٹیکنالوجی کے وسائل صرف ٹیکنالوجی کے شعبے تک محدود نہ رہیں بلکہ غیر تکنیکی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ان سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں، وکلا، انتخابی عملے سمیت ہر شعبے کے پیشہ ور افراد کو ٹیکنالوجی کی تبدیلی کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔شزہ فاطمہ نے کہا کہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اور غیر ٹیکنالوجی دونوں شعبوں کے طلبہ کو اے آئی، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (سٹیم) اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق بنیادی آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی پیشہ وارانہ اور روزمرہ زندگی میں ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔انہوں نے اے آئی کے فروغ میں یو این ویمن ترقیاتی شراکت داروں، صنعت، جامعات اور وزارت آئی ٹی کی کاوشوں کو سراہا۔وفاقی وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ اساتذہ تیار کئے جائیں تاکہ وہ طلبہ اور پیشہ ور افراد تک مصنوعی ذہانت کا علم منتقل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اب معاشی ترقی، جدت اور پیداواری صلاحیت کی بنیاد بن چکی ہے اور مینوفیکچرنگ، زراعت، صحت اور مالیاتی خدمات سمیت مختلف شعبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔شزہ فاطمہ نے مصنوعی ذہانت کی تحقیق، جدت اور قیادت میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر خواتین اے آئی کی تخلیق، تحقیق اور فیصلہ سازی میں شامل نہ ہوئیں تو اے آئی نظام نامکمل اور جانبدار رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ اے آئی نظام انسانوں کے علم، تجربات اور اقدار کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں، اس لئے ان کی تیاری میں تنوع ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کم کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق یہ فرق 2024 میں تقریباً 38 فیصد تھا، جو 2025 میں 25 فیصداور 2026 کی جی ایس ایم اے رپورٹ کے مطابق مزید کم ہو کر صرف 8 فیصدرہ گیا ہے۔انہوں نے اسے دنیا میں ڈیجیٹل صنفی فرق میں ہونے والی تیز ترین کمی میں سے ایک قرار دیاتاہم انہوں نے کہا کہ اس پیشرفت کے باوجود ایس ٹی ای ایم تعلیم میں لڑکیوں کی شرکت اب بھی محدود ہے، جس کے باعث اے آئی ٹیکنالوجیز کی تیاری اور ترقی میں ان کی نمائندگی کم ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ اے آئی نظام انسانی تعصبات بھی اپنے اندر منتقل کر لیتے ہیں، اس لئے ان کی تیاری میں خواتین اور مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کی شمولیت ضروری ہے۔شزہ فاطمہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نظام انہی افراد کے تجربات اور سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو انہیں تیار کرتے ہیں لہٰذا اگر خواتین ان کی تیاری میں شامل نہ ہوئیں تو ان کا نقطہ نظر ان نظاموں میں شامل نہیں ہو سکے گا۔انہوں نے نوجوان خواتین پر زور دیا کہ وہ صرف ٹیکنالوجی کی صارف نہ رہیں بلکہ اے آئی کی موجد، ڈویلپر اور تخلیق کار بنیں۔انہوں نے کہا کہ جینڈر رسپانسیو اے آئی سکول جیسے اقدامات اس بات کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی صنفی شمولیت کے اصولوں کے مطابق ہو اور پائیدار ترقیاتی اہداف خصوصاً معیاری تعلیم اور صنفی مساوات کے حصول میں معاون بنے۔خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان نے متعدد اہم اقدامات کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے فیصلے کے تحت رمضان سبسڈی کی روایتی تقسیم کو یوٹیلٹی سٹورز کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے ممکن بنایا گیا جس سے مالی شمولیت کو نمایاں فروغ ملا۔یہ منصوبہ وزارت آئی ٹی،پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی،نادرا،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے وزیراعظم کی قیادت میں کامیابی سے نافذ کیا گیا۔شزہ فاطمہ نے کہا کہ پروگرام کے آغاز کے صرف ایک ماہ کے اندر 8 لاکھ سے زائد خواتین نے ڈیجیٹل والٹس کھولے۔انہوں نے کہا کہ جہاں ماضی کے رمضان پیکیج کے تحت 16 ارب روپےتقسیم کئے گئے تھے، وہیں حالیہ پروگرام کے ذریعے خواتین مستحقین کو 38 ارب روپے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کئے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں تقریباً ایک کروڑ خواتین کو مفت سمز اور ڈیجیٹل والٹس فراہم کئے جا چکے ہیں تاکہ وہ ڈیجیٹل معیشت میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا طویل المدتی ہدف ڈیجیٹل گورننس اور ڈیجیٹل معیشت کو اس انداز میں تشکیل دینا ہے کہ خواتین کی شمولیت صرف ایک عارضی پالیسی اقدام نہ ہو بلکہ قومی ترقی کا مستقل حصہ بن جائے۔

مزید خبریں