اے آر آئی اور اس کی ممبر تنظیموں کا وفاقی وزارتِ قومی صحت سے پاکستان سے متعلق جے اے ٹی ایس 2024 کا ڈیٹا جاری کرنے کامطالبہ

آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشی ایٹو (اے آر آئی ) اور اس کی ممبر تنظیموں نے وفاقی وزارتِ قومی صحت سے پاکستان سے متعلق گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے 2024 (جی اے ٹی ایس)کا ڈیٹا جاری کرنے کامطالبہ کیا ہے

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشی ایٹو (اے آر آئی ) اور اس کی ممبر تنظیموں نے وفاقی وزارتِ قومی صحت سے پاکستان سے متعلق گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے 2024 (جی اے ٹی ایس)کا ڈیٹا جاری کرنے کامطالبہ کیا ہے ۔ جی اے ٹی ایس کے ابتدائی نتائج کے مطابق 2014 سے 2024 کے دوران پاکستان میں تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 2 کروڑ 27 لاکھ بالغ افراد تمباکو کی مختلف مصنوعات استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود سیکنڈ ہینڈ سموک کی نمائش اور تمباکو کی تشہیر عوامی مقامات اور نوجوانوں میں اب بھی وسیع پیمانے پر موجود ہے۔تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کے باعث ہر سال تقریباً ایک لاکھ 64 ہزار اموات واقع ہوتی ہیں جو اوسطاً یومیہ 450 اموات کے برابر ہیں۔یہ سروے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز ٹریننگ اینڈ ریسرچ نے وزارتِ قومی صحت اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اشتراک سے منعقد کیا۔ وزارتِ قومی صحت نے ٹوبیکو کنٹرول سیل کے ذریعے اس سروے میں حصہ لیا۔

سروے کے دوران 11 ہزار سے زائد انٹرویوز مکمل کئے گئے جبکہ مجموعی ردِعمل کی شرح 95.6 فیصد رہی۔اے آر آئی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ارشد علی سید نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں تمباکو کے استعمال میں کمی ایک اہم پیشرفت ہے تاہم سگریٹ نوشی ترک کرنے میں بالغ افراد کو مدد فراہم کرنے کے حوالے سے اب بھی نمایاں خلا ء موجود ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ مؤثر معاونت کے بغیر ’’تمباکو سے پاک ملک‘‘ کے ہدف کو حاصل کرنا مشکل ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ جو افراد تمباکو نوشی ترک کرنے میں ناکام رہتے ہیں، ان میں سے تقریباً 50 فیصد تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔ تمباکو نوشی دل کی بیماریوں، پھیپھڑوں کے امراض، فالج اور مختلف اقسام کے کینسر کا اہم سبب ہے اور یہ قابلِ روک تھام اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ جی اے ٹی ایس2024 کے ڈیٹا کا اجراء پاکستان میں تمباکو کے خاتمے کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کو مؤثر پالیسی سازی میں مدد فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ 2014 کےجی اے ٹی ایس ڈیٹا کے ساتھ نئے نتائج کا تقابلی جائزہ تمباکو کے استعمال کے رجحانات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گا، جو عوامی صحت کے لئے ایک اہم پیشرفت ہوگی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جی اے ٹی ایس 2024 کے نتائج صوبائی حکومتوں کے لئے اپنی تمباکو کنٹرول پالیسیوں کے ازسرِ نو جائزے اور انہیں مزید مؤثر بنانے کے لئے نہایت اہم ہیں۔ ان کے مطابق صوبائی حکومتوں کو اپنے تمباکو کنٹرول پروگراموں کو مضبوط اور وسعت دینے کے لئے جامع تکنیکی اور ادارہ جاتی معاونت کی ضرورت ہے۔