پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) ایک دہائی سے زائد عرصے کے وقفے کے بعدپاکستان میں اے ایف سی اے سرٹیفکیٹ ریفریشر کوچنگ کورس کا انعقاد کر رہی ہے۔ترجمان کے مطابق پانچ روزہ کورس 15 سے 19 اگست 2026 تک جاری رہے گا
اے ایف سی اے سرٹیفکیٹ ریفریشر کوچنگ کورس15 اگست سے شروع ہوگا،ترجمان پی ایف ایف

مزید خبریں
لاہور۔12اگست (اے پی پی):پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) ایک دہائی سے زائد عرصے کے وقفے کے بعدپاکستان میں اے ایف سی اے سرٹیفکیٹ ریفریشر کوچنگ کورس کا انعقاد کر رہی ہے۔ترجمان کے مطابق پانچ روزہ کورس 15 سے 19 اگست 2026 تک جاری رہے گا، جس میں عراق سے تعلق رکھنے والے اے ایف سی انسٹرکٹر وسام شمیل کامل بطور انسٹرکٹر خدمات انجام دیں گے۔کورس میں پاکستان کے 19 اے ایف سی اے سرٹیفائیڈ کوچز شرکت کریں گے، جن میں 18 مرد اور ایک خاتون کوچ شامل ہیں۔
کورس کا مقصد کوچز کی فنی معلومات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، تجربات کا تبادلہ اور بین الاقوامی کوچنگ ماہرین سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔پی ایف ایف کے ڈائریکٹر کوچ ایجوکیشن سجاد محمود کا کہنا ہے کہ اعلی سطح کی کوچنگ ایجوکیشن کی بحالی پاکستان میں فٹبال کے مجموعی نظام کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوچز کی ترقی فٹبال کی ترقی کی بنیاد اور پاکستان میں اے ایف سی اے سطح کا کوچنگ کورس منعقد ہوئے ایک دہائی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، اس لیے موجودہ ریفریشر کورس ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایف ایف کی کوشش ہے کہ کوچز میں مسلسل سیکھنے واپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا رجحان فروغ پائے اور انہیں اعلی سطح کی فنی تعلیم وبین الاقوامی تجربات تک باقاعدگی سے رسائی حاصل ہو۔ترجمان کے مطابق کورس کے نظریاتی سیشنز پی ایف ایف ہائوس آڈیٹوریم میں صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک جبکہ عملی سیشنز ماڈل ٹائون سی بلاک فٹبال گرائونڈ میں شام 4 سے 6 بجے تک ہوں گے، دونوں سیشنز کے اوقات عارضی اور ان میں تبدیلی ممکن ہے۔
کورس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے اے ایف سی انسٹرکٹر وسام شمیل کامل نے پاکستان آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے فٹبال کے لیے پرجوش کوچز کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی کوچز کے جذبے سے ایشیائی مقابلوں اور کوچنگ کورسز کے دوران بھی واقف ہو چکے ہیں ،اس تجربے کے دوران اپنے ساتھی کوچز کے ساتھ علم، تجربات اور خیالات کا تبادلہ کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔







