بائیوسیفٹی کمیٹی نے جینیاتی طور پر ترمیم شدہ گنے اور کپاس کی اقسام کی تجارتی کاشت کی منظوری دے دی

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):بائیوسیفٹی کمیٹی نے جینیاتی طور پر ترمیم شدہ گنے اور کپاس کی اقسام کی تجارتی کاشت کی منظوری دے دی۔جمعرات کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابط کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر نیشنل بائیوسیفٹی کمیٹی (این بی سی) نے اپنے 35ویں اجلاس جو وزارت ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی میں …

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):بائیوسیفٹی کمیٹی نے جینیاتی طور پر ترمیم شدہ گنے اور کپاس کی اقسام کی تجارتی کاشت کی منظوری دے دی۔جمعرات کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابط کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر نیشنل بائیوسیفٹی کمیٹی (این بی سی) نے اپنے 35ویں اجلاس جو وزارت ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی میں منعقد ہوا، میں ملک کی پہلی جینیاتی طور پر ترمیم شدہ گنے اور جدید کپاس کی اقسام کی تجارتی منظوری دے دی۔اجلاس کی صدارت سیکریٹری وزارت ماحولیاتی تبدیلی / این بی سی کے چیئرمین نے کی۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سمیت متعلقہ محکموں کے سینئر افسران اور ماہرین حیاتیات نے شرکت کی۔

کمیٹی نے دو ماحول دوست گنے کی اقسام CABB-IRS اور CABB-HTS کی منظوری دی جو مکمل طور پر پاکستان میں تیار کی گئی ہیں۔ ان اقسام کو انسانوں، جانوروں اور ماحول کے لیے محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ لیبارٹری اور فیلڈ تجربات سے تصدیق ہوئی کہ گنے کے رس یا گڑ میں کوئی زہریلے اثرات موجود نہیں، چونکہ یہ اقسام ویجیٹیٹیو طریقے سے افزائش پاتی ہیں، اس لیے جینیاتی مواد کے پھیلائوکا کوئی خطرہ نہیں۔فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے ان اقسام کے امتیاز، یکنواختی اور پائیداری ٹیسٹ بھی مکمل کر لیے ہیں۔ قومی سطح پر کاشت سے قبل یہ اقسام پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے تحت نیشنل یونیفارم یِیلڈ ٹرائلز سے گزریں گی۔

یہ منظوری پاکستان میں تیار کردہ پہلی جینیاتی طور پر ترمیم شدہ گنے کی اقسام کے طور پر ایک تاریخی پیش رفت ہےجو زرعی بایوٹیکنالوجی میں ملک کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔

مزید خبریں