وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ڈرافٹ نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی کو پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ سرکاری ڈیٹا کے موثر نظام، تحفظ، تبادلے اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ایک جامع قومی فریم ورک کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
سرکاری ڈیٹا کے موثر نظام، تحفظ، تبادلے اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ایک جامع قومی فریم ورک کا ہونا انتہائی ضروری ہے، شزا فاطمہ خواجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ڈرافٹ نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی کو پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ سرکاری ڈیٹا کے موثر نظام، تحفظ، تبادلے اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ایک جامع قومی فریم ورک کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ بدھ کو وزارت آئی ٹی وٹیلی کام سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کی زیر صدارت ’’ڈرافٹ نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی 2026‘‘ پر ایک اعلیٰ سطحی مشاورت کا انعقاد کیا گیا جس کا اہتمام وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے تعاون سے اسلام آباد میں کیا۔اجلاس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، پبلک سیکٹر کی تنظیموں اور دیگر تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔
مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے ڈرافٹ نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی کو پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ڈیٹا کی سب سے بڑی امین ہے، اسی لیے سرکاری ڈیٹا کے موثر نظام، تحفظ، تبادلے اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ایک جامع قومی فریم ورک کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی کو عملی، قابل عمل اور قومی ڈیجیٹل ترجیحات کے عین مطابق بنانے کے لیے تمام سرکاری اداروں کی تجاویز اور آراء کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی، ڈاکٹر سہیل منیر نے پاکستان کے نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان شعبہ جات کی ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبوں اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی معاونت میں اس پالیسی کی حکمت عملی اور اہمیت کو اجاگر کیا۔
ڈاکٹر سہیل منیر نے کہا کہ یہ پالیسی بلا تفریق ڈیٹا شیئرنگ یا تمام سرکاری ڈیٹا کو کسی ایک جگہ جمع کرنے کی تجویز نہیں دیتی۔ ڈیٹا کی حفاظت اور صدارت متعلقہ اداروں ہی کے پاس رہے گی جبکہ ’’وصل‘‘ فریم ورک ڈیٹا کی مناسب درجہ بندی کے ساتھ محفوظ تبادلے اور باہمی رابطے کو ممکن بنائے گا۔اس مشاورت میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور اہم پبلک سیکٹر اداروں کے نمائندوں نے ڈیٹا گورننس، باہمی رابطے، قانونی ہم آہنگی، ڈیٹا کی درجہ بندی اور اس کے نفاذ سے متعلق اپنی اہم سفارشات پیش کیں۔پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی سٹیک ہولڈرز کی سفارشات کا جائزہ لے کر ڈرافٹ نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی کو مزید حتمی شکل دے گی جس میں مرحلہ وار نفاذ کی حکمت عملی، صلاحیتوں میں اضافہ اور انتظامی امور شامل ہوں گے تاکہ ایک جامع اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق قومی ڈیٹا گورننس فریم ورک قائم کیا جا سکے۔







