بار کونسلز سمیت کسی بھی شخص یا ادارے کے خلاف بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے رٹ دائر کی جا سکتی ہے، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے ایک فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199(1)(c) کے تحت ہائی کورٹس کو بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے ’’کسی بھی شخص‘‘، ادارے یا ریگولیٹری باڈی کے خلاف مناسب احکامات جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ کسی وکیل کا لائسنس اس بنیاد پر معطل کرنا کہ اس نے کسی ملزم کی وکالت کی یا ہڑتال کے دوران عدالت میں پیش ہوا، آئین کے …

اسلام آباد۔2جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے ایک فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199(1)(c) کے تحت ہائی کورٹس کو بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے ’’کسی بھی شخص‘‘، ادارے یا ریگولیٹری باڈی کے خلاف مناسب احکامات جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ کسی وکیل کا لائسنس اس بنیاد پر معطل کرنا کہ اس نے کسی ملزم کی وکالت کی یا ہڑتال کے دوران عدالت میں پیش ہوا، آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت پیشہ اختیار کرنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان باریچ پر مشتمل وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر اپیلوں پر 31 مارچ 2026ء کو محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ہائی کورٹ کے آئینی اختیارات کی تاریخ کا جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ برصغیر کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935، پاکستان کے 1956ء اور 1962ء کے آئینوں اور موجودہ آئین میں ہائی کورٹس کو وسیع رٹ اختیار حاصل رہا ہے اور کسی مرحلے پر بھی اس اختیار کو صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 199(1)(c) کا مقصد بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، لہٰذا اگر کسی شہری کے بنیادی حقوق کسی نجی شخص، نجی ادارے یا خودمختار ریگولیٹری ادارے کی کارروائی سے متاثر ہوں تو ہائی کورٹ مداخلت کرنے کی مجاز ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ بنیادی حقوق کو محض کتابی حقوق نہیں بنایا جا سکتا بلکہ ان کے موثر نفاذ کو یقینی بنانا آئینی عدالتوں کی ذمہ داری ہے۔

فیصلے میں سپریم کورٹ کے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کیس سمیت مختلف عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا گیا کہ آرٹیکل 199(1)(c) میں استعمال ہونے والی اصطلاح ’’کسی بھی شخص‘‘ کی تشریح وسیع ہے اور اس میں باڈی کارپوریٹ، خودمختار ادارے اور دیگر تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ عدالت نے کہا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا فریق صرف حکومتی ادارہ ہونا ضروری نہیں۔عدالت نے آئین کے آرٹیکل 5 کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ آئین سے وفاداری اور اس کی اطاعت ہر شہری پر لازم ہے۔ اگر کوئی نجی شخص یا ادارہ کسی دوسرے شہری کے بنیادی حقوق سلب کرتا ہے تو ہائی کورٹ اس خلاف ورزی کے ازالے کیلئے آئینی اختیار استعمال کر سکتی ہے۔

مقدمے کے حقائق کے مطابق ایک نوجوان وکیل کے قتل کے مقدمے میں نامزد پولیس افسر کی وکالت قبول کرنے پر خیبر پختونخوا بار کونسل نے قرارداد منظور کی تھی کہ کوئی وکیل ملزم افسر کی نمائندگی نہیں کرے گا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے وکیل شبیر حسین گیلانی کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ ایڈووکیٹ علی عظیم آفریدی کا لائسنس ہڑتال کے دوران عدالت میں پیش ہونے پر معطل کر دیا گیا تھا۔متاثرہ وکلاء نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس نے بار کونسل کی کارروائی کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ وکیل کو اپنے پیشے کے آزادانہ استعمال اور موکل کی نمائندگی کا حق حاصل ہے۔

بار کونسل نے اس فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں اپیلیں دائر کی تھیں۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ کسی وکیل کو صرف اس وجہ سے سزا نہیں دی جا سکتی کہ اس نے کسی غیر مقبول یا متنازع ملزم کی وکالت کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ منصفانہ نظام انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر ملزم کو اپنی پسند کے وکیل کے ذریعے دفاع کا حق حاصل ہو اور وکیل کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے پر تادیبی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

عدالت نے قرار دیا کہ وکالت کا پیشہ آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت محفوظ بنیادی حق ہے اور اس حق پر غیر ضروری یا غیر قانونی قدغن عائد نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ وکلاء کے لائسنس معطل کرنے کی کارروائی ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی تھی۔وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تمام اپیلیں مسترد کر دیں۔