اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):گزشتہ مالی سال 2024-25 کے دوران بجلی چوری کے خلاف ملک گیر مہم میں 44,000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور 184,911 فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آرز ) درج کی گئیں۔ حکام کے مطابق سراغ رساں ٹیموں نے 271 ملین چوری شدہ (MKwH) یونٹس کی نشاندہی کی گئی اور صارفین کو 11.4 ارب روپے کے بل جاری کئے گئے جبکہ مہم کے دوران …
بجلی چوری کے خلاف ملک گیر مہم، 44 ہزار سے زائد گرفتاریاں اور لاکھوں ایف آئی آرز درج

مزید خبریں
اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):گزشتہ مالی سال 2024-25 کے دوران بجلی چوری کے خلاف ملک گیر مہم میں 44,000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور 184,911 فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آرز ) درج کی گئیں۔ حکام کے مطابق سراغ رساں ٹیموں نے 271 ملین چوری شدہ (MKwH) یونٹس کی نشاندہی کی گئی اور صارفین کو 11.4 ارب روپے کے بل جاری کئے گئے جبکہ مہم کے دوران 5.7 ارب کی وصولی ہوئی ہے۔
حکام نے کہا کہ نیپرا کے اہداف سے زیادہ نقصانات کا مالی بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا جاسکتا۔بجلی چوری کے خاتمہ کی مہم کے باوجودبجلی کی 10 تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے مجموعی لائن لاسز اوسطاً 17.23 فیصد رہے۔ جن اہم وجوہات کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں غیر قانونی کنکشن، میٹر میں چھیڑ چھاڑ، زیادہ ٹیرف، امن و امان کے مسائل اور عمر رسیدہ انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ڈسکوز کے نقصانات مختلف رہے ہیں جن میں سیپکو (39.12 فیصد)، کیسکو (38.42 فیصد) اور پیسکو کے نقصانات (36.76 فیصد) رہے جبکہ ٹیسکو نے سب سے کم 8.29 فیصد اور آئیسکونے 8.39 فیصد پر اپنے نقصانات کو برقرار رکھا۔







