چینی مارکیٹ میں پاکستانی سی فوڈ کی بڑھتی طلب، برآمدات میں نمایاں اضافہ

چین کی مارکیٹ میں پاکستانی سمندری خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پاکستان کی سی فوڈ برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملکی برآمدی صنعت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):چین کی مارکیٹ میں پاکستانی سمندری خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پاکستان کی سی فوڈ برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملکی برآمدی صنعت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

2026 کے پہلے سات ماہ کے دوران چین کو پاکستان کی سی فوڈ برآمدات میں 41 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں برآمدات کا حجم 156 ملین ڈالر سے بڑھ کر 220 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔جنوری سے جولائی کے دوران فروزن فش، کٹل فش اور اسکویڈ کی برآمدات نمایاں رہیں، جن سے مجموعی طور پر 76.43 ملین ڈالر کی آمدن حاصل ہوئی۔چینی مارکیٹ میں پاکستانی سی فوڈ کی طلب میں اضافے کا رجحان چین کے اہم ساحلی صوبوں فوجیان، گوانگ ڈونگ، شاندونگ اور ژی جیانگ میں بھی دیکھا گیا ہے، جہاں پاکستانی سمندری مصنوعات کے لیے کاروباری مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے۔

برآمدی مواقع میں اضافے کے ساتھ تقریباً 200 پاکستانی سی فوڈ برآمد کنندگان چینی کسٹمز کے ساتھ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سمندری مصنوعات کی تجارت کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے تحت ترجیحی مارکیٹ رسائی نے بھی پاکستانی سمندری مصنوعات کی چینی مارکیٹ تک رسائی آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ماہرین کے مطابق سی فوڈ کا شعبہ پاکستان کی برآمدات میں تنوع پیدا کرنے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور عالمی تجارتی روابط کو وسعت دینے کی نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔چین کو پاکستانی سی فوڈ کی بڑھتی ہوئی برآمدات نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تجارتی تعاون کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ پاکستان کی برآمدی صلاحیتوں میں مسلسل اضافے کا بھی ثبوت ہیں۔