بجلی کے بڑھتے مسائل، ترسیلی نظام پر دبائو اور قابل تجدید توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کے ضیاع کو کم کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی منصوبہ بندی ناگزیر ہے، ماہرین

پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے مسائل، ترسیلی نظام پر دبائو اور قابل تجدید توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کے ضیاع کو کم کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی منصوبہ بندی ناگزیر ہوگئی ہے

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے مسائل، ترسیلی نظام پر دبائو اور قابل تجدید توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کے ضیاع کو کم کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی منصوبہ بندی ناگزیر ہوگئی ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ ملک میں بیٹری پر مبنی توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبے محض ضرورت کی بنیاد پر نہیں بلکہ دستیاب اعداد و شمار، بجلی کے نظام کی ضروریات اور موزوں مقامات کی سائنسی جانچ کے بعد قائم کئے جائیں۔ یہ باتیں مقررین نے یہاں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) میں صاف توانائی کی منتقلی کے نیٹ ورک کے اشتراک سے پیر کو اسلام آباد میں پاکستان میں بڑے پیمانے پربجلی ذخیرہ کرنے والی بیٹریوں کےلئے موزوں مقامات کے تعین کے موضوع پر ایک تحقیقی مطالعہ کی تقریب رونمائی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہیں۔تقریب میں توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین، متعلقہ اداروں کے نمائندوں،ضابطہ سازوں اور محققین نے شرکت کی اور اس بات پر غور کیا کہ بجلی ذخیرہ کرنے والی بیٹریاں ملک کے ترسیلی نظام میں لچک پیدا کرنے،قابل تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کو نظام میں شامل کرنے، بجلی کے ضیاع کو کم کرنے اور ترسیلی رکاوٹوں پر قابو پانے میں کس طرح مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔مطالعے کے نتائج پیش کرتے ہوئے پائیدار ترقی پالیسی ادارے کے تحقیقی معاون محمد عمر نے بتایا کہ پاکستان کا بجلی کا شعبہ اب بھی بجلی کی عدم فراہمی کے مسلسل مسئلے سے دوچار ہے جس کے نتیجے میں تقریباً 2.77 گیگا واٹ گھنٹے بجلی صارفین تک نہیں پہنچ پاتی۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کے دوران قومی ترسیلی کمپنی کے 500 اور 220 کلو وولٹ کے گرڈ سٹیشنوں کا ابتدائی سطح پر جائزہ لیا گیا۔ مختلف مقامات کو تکنیکی اور جغرافیائی خصوصیات کی بنیاد پر درجہ بندی کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ بڑے پیمانے پر بجلی ذخیرہ کرنے والی بیٹریوں کی تنصیب کے لئے کون سے مقامات زیادہ موزوں ہوسکتے ہیں۔ اس جائزے میں شکارپور، فیصل آباد، دادو اور روات سمیت مختلف مقامات کو شامل کیا گیا۔مطالعے کی پالیسی سفارشات بیان کرتے ہوئے محمد عمر نے کہا کہ بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام کی باقاعدہ منصوبہ بندی کو بجلی پیدا کرنے کی آئندہ ضروریات سے متعلق قومی منصوبے کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ اسی طرح بجلی کے ترسیلی نظام کو وسعت دینے کے منصوبوں میں بھی ذخیرہ کرنے کے نظام کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی طلب اور رسد کا اندازہ نچلی سطح سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر لگایا جائے اور ملک میں بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام کی تنصیب کے لیے ایک واضح قومی منصوبہ تیار کیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کو قابل اعتماد اور منافع بخش بنانے کے لئے واضح کاروباری ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا تاکہ چینی کاروباری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جاسکے۔اس موقع پر ڈاکٹر کاشف عمران نے کہا کہ یہ مطالعہ بجلی ذخیرہ کرنے والی بیٹریوں کے لئے موزوں مقامات کے تعین کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے سرمایہ کاروں کی رہنمائی اور سہولت کے لیے تین سطحی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اعداد و شمار کے بہتر استعمال اور جدید تجزیاتی طریقوں سے زیادہ درست نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مختلف مقامات کے انتخاب کے لیے ترجیحات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا ایک سائنسی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے الٹے بہائو کا بھی تفصیلی جائزہ ضروری ہے تاکہ ترسیلی نظام میں ان مقامات کی نشاندہی کی جاسکے جہاں مسائل زیادہ پیدا ہورہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر زیادہ جامع اور قابل اعتماد اعداد و شمار دستیاب ہوں تو منصوبہ ساز بجلی ذخیرہ کرنے والے نظام کے مناسب حجم کا بھی زیادہ درست تعین کرسکیں گے۔سوال و جواب کے دوران ڈاکٹر کاشف عمران نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ملک میں بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام کی پیش رفت ٹھوس تکنیکی اعداد و شمار کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔محمد عمر نے کہا کہ بڑے پیمانے پر بجلی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کے فروغ کے لیے مالی وسائل کا انتظام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے ترقیاتی پروگرام میں جھمپیر میں بجلی ذخیرہ کرنے کے ایک منصوبے کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو پاکستان میں بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی جانب ایک عملی پیش رفت ہے۔

 

مزید خبریں