بدعنوانی معاشروں کے غریب اورکمزورطبقات کوسب سے زیادہ متاثرکر رہی ہے، آئی ایم ایف

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہاہے کہ بدعنوانی معاشروں کے غریب اورکمزورطبقات کوسب سے زیادہ متاثرکر رہی ہے ، ممالک کوبہترانتظام وانصرام، شفافیت، احتساب ،سرکاری خریداریوں کی آن لائن تفصیلات اورمنی لانڈرنگ کے تدارک جیسے اقدامات کویقینی بناناہوگا۔یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹرکرسٹالینا جارجیوانے گزشتہ روزاینٹی کرپشن کے حوالہ سے ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ صحت، معیشت اورسماج …

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہاہے کہ بدعنوانی معاشروں کے غریب اورکمزورطبقات کوسب سے زیادہ متاثرکر رہی ہے ، ممالک کوبہترانتظام وانصرام، شفافیت، احتساب ،سرکاری خریداریوں کی آن لائن تفصیلات اورمنی لانڈرنگ کے تدارک جیسے اقدامات کویقینی بناناہوگا۔یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹرکرسٹالینا جارجیوانے گزشتہ روزاینٹی کرپشن کے حوالہ سے ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ صحت، معیشت اورسماج پرکورونا وائرس کے اثرات سے دنیا کاکوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہاہے، یہ ایک ایسابحران ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی وبا سے متاثرہ معیشتوں کی معاونت کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے فوری ردعمل کامظاہرہ کیا، آئی ایم ایف کو 100 ممالک کی جانب سے ہنگامی معاونت کی درخواستیں موصول ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ جہاں آئی ایم ایف نے فوری معاونت کیلئے اقدامات کئے اس کے ساتھ ساتھ ممالک کواسلوب حکمرانی بہتر اوراحتساب کو یقینی بنانے پرزوردیاگیا، تمام ممالک کیلئے ہماراپیغام بڑا واضح ہے کہ بحران کے اس دورمیں صرف وہ اخراجات کئے جائے جو ضروری ہوں ، فنڈز سمجھداری سے استعمال کئے جائے اوراس کی رسیدوں کومحفوظ رکھاجائے۔ہم احتساب کو کھونا نہیں چاہتے، احتساب اورشفافیت بالخصوص بحران کے دنوں میں ازحدضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ بدعنوانی ایک ایساشکنجہ ہے جومعاشروں کے غریب اورکمزورطبقات کوسب سے زیادہ متاثرکرتاہے۔ انسانی جانیں اورروزگاربچانے کیلئے حکومتی اقدامات کے مواقع پر دستیاب فنڈز کا بدعنوانی کے نتیجہ میں ضیاع ایک المیہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس تناظرمیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈسرکاری فنڈز کے بہترانتظام وانصرام، شفافیت، احتساب اور سرکاری خریداریوں کی آن لائن تفصیلات اورمنی لانڈرنگ کے تدارک جیسے اقدامات کویقینی بنانے پرزوردے رہاہے۔یہ آسان کام نہیں ہے، چوراورفراڈئے پرعزم ہوتے ہیں، وہ ایسے طریقے ڈھونڈتے ہیں جس سے وہ فنڈز ایسی جگہوں پرمنتقل کرتے ہیں جہاں ان کی ضرورت نہیں ہوتی،اس صورتحال میں سول سوسائٹی اورٹرانسپرنسی انٹرنیشنل جیسے اداروں کی اہمیت اوبھی بڑھ جاتی ہے۔