بدعنوانی کی زیادہ شرح والے ممالک میں صحت ، تعلیم اورسماجی بہبود کے شعبے متاثرہورہے ہیں،کرپشن کے تدارک کیلئے نئی ٹیکنالوجیزکااستعمال بھی ناگزیرہے، آئی ایم ایف

اسلام آباد ۔ 25 اگست (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ بدعنوانی کی زیادہ شرح والے ممالک میں صحت ، تعلیم اورسماجی بہبود وتحفظ کے شعبے متاثرہورہے ہیں۔ یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے مالیاتی امورکے ڈائریکٹروکٹرگیسپراورڈپٹی ڈائریکٹرپاولو ماورو نے اپنے ایک آرٹیکل میں کہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن کی وجہ سے حکومتیں عوامی مفاد اوراستفادہ کیلئے موثراورشفاف پالیسیاں بنانے …

اسلام آباد ۔ 25 اگست (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ بدعنوانی کی زیادہ شرح والے ممالک میں صحت ، تعلیم اورسماجی بہبود وتحفظ کے شعبے متاثرہورہے ہیں۔ یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے مالیاتی امورکے ڈائریکٹروکٹرگیسپراورڈپٹی ڈائریکٹرپاولو ماورو نے اپنے ایک آرٹیکل میں کہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن کی وجہ سے حکومتیں عوامی مفاد اوراستفادہ کیلئے موثراورشفاف پالیسیاں بنانے میں ناکام ہوتی ہیں جس کی وجہ سے عوامی اعتماد میں کمی آتی ہے نیز جو پیسہ سڑکوں، تدریسی اداروں اورہسپتالوں پرخرچ ہونا چاہئیے وہ بدعنوان عناصر کی جیبوں میں چلا جاتاہے۔انہوں نے اعدادوشمارکے حوالہ سے بتایا ہے کہ جن ممالک میں بدعنوانی کی شرح زیادہ ہے وہاں پرمحصولات اکھٹاکرنے کی شرح بھی بہت کم ہوتی ہے کیونکہ ان ممالک میں زیادہ ترپیسہ رشوت اورکک بیکس کی شکل میں استعمال ہوتا ہے اس صورت میں مجموعی معیشت کو اٹھانے کی کوششیں ناکام ہوجاتی ہے، بدعنوانی کی زیادہ شرح والے ممالک میں جی ڈی پی کی شرح سے ٹیکس وصولیوں میں 4 فیصد کم ٹیکس اکھٹا ہوتاہے۔انہوںنے کہاکی کرپشن کی بیخ کنی کیلئے سیاسی عزم اورشفاف اداروں کی تشکیل ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات، پیشہ وارانہ سول سروس کی تشکیل، اورکرپشن کے تدارک کیلئے نئی ٹیکنالوجیزکااستعمال بھی ناگزیرہے۔