سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے ایشیائی ممالک بالخصوص ہمسایہ منڈیوں کے ساتھ علاقائی اقتصادی انضمام کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو تیار مصنوعات، زرعی اجناس، ادویات اور خدمات کی برآمدات کے لیے ان منڈیوں میں موجود وسیع مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
برآمدات کے فروغ کے لیے ہمسایہ منڈیوں سے استفادہ کرنا ناگزیر ہے، افتخار علی ملک

مزید خبریں
لاہور۔16اگست (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے ایشیائی ممالک بالخصوص ہمسایہ منڈیوں کے ساتھ علاقائی اقتصادی انضمام کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو تیار مصنوعات، زرعی اجناس، ادویات اور خدمات کی برآمدات کے لیے ان منڈیوں میں موجود وسیع مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
اتوار کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ علاقائی تجارت کو صنعتی پالیسی کا اہم حصہ بنانا ہوگا، کیونکہ پاکستان درآمدات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل ترسیلات زر پر انحصار کر رہا ہے جبکہ برآمدات میں کمی ہو رہی ہے۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقائی سپلائی چینز کا حصہ بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو علاقائی تجارتی پالیسی پر نظرثانی، مارکیٹ تک رسائی میں اضافے، تجارتی رکاوٹیں دور کرنے، سرحد پار رابطے بہتر بنانے اور اہم شعبوں میں برآمدی استعداد بڑھانے کو ترجیح دینا ہوگی۔ بیرونی شعبے کا پائیدار استحکام زیادہ برآمدی آمدن سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایشیا کی کم ترین علاقائی طور پر مربوط معیشتوں میں شامل ہے۔
خطے کے9 ممالک کو پاکستان کی تقریبا4 ارب ڈالر کی برآمدات میں سے دو تہائی سے زیادہ چین کو جاتی ہیں، جبکہ مجموعی علاقائی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر11 فیصد کمی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے سے پاکستان کی درآمدات کا تقریبا 98 فیصد چین سے آتا ہے، اس لیے علاقائی تجارت میں تنوع، ہمسایہ ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون اور برآمدات میں اضافے کے لیے موثر حکمت عملی ناگزیر ہے۔






