اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہاہے کہ برآمدی سہولت سکیم کی مدت میں توسیع سے برآمد کنندگان کے اخراجات میں کمی آئے گی اور خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کو فائدہ پہنچے گا۔جمعرات کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ حکومت نے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم (ای ایف ایس) کے تحت استعمال کی مدت …
برآمدی سہولت سکیم کی مدت میں توسیع سے برآمد کنندگان کے اخراجات میں کمی آئے گی، بلال اظہرکیانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہاہے کہ برآمدی سہولت سکیم کی مدت میں توسیع سے برآمد کنندگان کے اخراجات میں کمی آئے گی اور خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کو فائدہ پہنچے گا۔جمعرات کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ حکومت نے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم (ای ایف ایس) کے تحت استعمال کی مدت کو 9 ماہ سے بڑھا کر 18 ماہ کر دیا ہے، اب برآمد کنندگان درآمد شدہ خام مال پر زیرو ڈیوٹی اور درآمدی مرحلے کے ٹیکسوں سے استثنا حاصل کر سکیں گے بشرطیکہ وہ اسے 18 ماہ کے اندر استعمال کریں، پہلے یہ مدت 9 ماہ تھی۔انہوں نے کہاکہ اس توسیع سے برآمد کنندگان کے اخراجات میں کمی آئے گی اور خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سے تعلق رکھنے والے برآمد کنندگان کو فائدہ پہنچے گا۔
وزیرمملکت نے کہاکہ 18 ماہ کی مدت کے بعد مزید 6 ماہ کی اضافی توسیع بھی کیس ٹو کیس بنیاد پر ایک کمیٹی کے ذریعے دی جا سکے گی،اس کے ساتھ ساتھ ہر چھ ماہ بعد مفاہمتی اسٹیٹمنٹ جمع کروانے کی شرط سکیم کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد دے گی۔وزیرمملکت نے کہاکہ وہ ایف بی آر اور وزارت تجارت کے ساتھیوں اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے ممنون ہیں جنہوں نے ٹیکنیکل کمیٹی میں مل کر ان پالیسی تبدیلیوں کی متفقہ سفارشات تیار کیں جو وزیر اعظم میاں شہباز شریف کو پیش کی گئیں۔ وزیرمملکت نے کمیٹی کی سفارشات کی منظوری پر وزیراعظم کابھی شکریہ اداکیاہے۔
انہوں نے کہاکہ کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کرنے سے پہلے ماضی کے ای ایف ایس ڈیٹا اور خطے کے دیگر ممالک کے تقابلی معیارات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، پالیسی تبدیلی سے قبل ای ایف ایس استعمال کرنے والوں کے ان پٹ سامان کی کل 7932 گڈز ڈیکلریشنز ایسی تھیں جو مقررہ 9 ماہ کی مدت سے تجاوز کر چکی تھیں اب 18 ماہ کی نئی مدت کے نفاذ کے بعد یہ تمام گڈز ڈیکلریشنزدوبارہ سکیم کے تحت برآمدات کے لیے اہل ہو گئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ مزید بہتریاں بھی متعارف کروائی گئی ہیں اور سکیورٹی ڈیپازٹ کی رقم کی خودکار بحالی اس حد تک ہوگی جتنی مالیت کا سامان استعمال ہو کر برآمد ہو چکا ہو، اس سے برآمد کنندگان کا وقت بچے گا۔ ای ایف ایس صارفین کو ریگولیٹری کلیکٹر کے فیصلوں کے خلاف چیف کلیکٹر کے پاس اپیل کا حق بھی دے دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت برآمدات پر مبنی، نجی شعبے کی قیادت میں اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔








