برآمدی صنعتوں کی ایسوسی ایشنز برآمدات کی ترقی کیلئے کوشاں ، حکومتی گرانٹس کا دائرہ وسیع کیا جائے، اعجاز الرحمن

چیئرپرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمن نے کہا ہے کہ برآمدات میں اضافے، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی مسابقت بہتر بنانے کیلئے حکومت کو برآمدی صنعتوں کی ایسوسی ایشنز کے قابل عمل ترقیاتی منصوبوں میں معاونت کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے کیونکہ ایسے منصوبے محض کسی ایک تنظیم کے نہیں بلکہ پوری صنعت اور قومی معیشت کے مفاد سے جڑے ہوتے ہیں،ایسوسی …

اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):چیئرپرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمن نے کہا ہے کہ برآمدات میں اضافے، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی مسابقت بہتر بنانے کیلئے حکومت کو برآمدی صنعتوں کی ایسوسی ایشنز کے قابل عمل ترقیاتی منصوبوں میں معاونت کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے کیونکہ ایسے منصوبے محض کسی ایک تنظیم کے نہیں بلکہ پوری صنعت اور قومی معیشت کے مفاد سے جڑے ہوتے ہیں،ایسوسی ایشز کی محدود آمدنی بڑے پیمانے کے منصوبوں، بین الاقوامی نمائشوں، تحقیق و ترقی، ہنرمندی کی تربیت اور عالمی خریداروں سے روابط کے اخراجات پورے کرنے کیلئے کافی نہیں ہوتی اس لئے حکومتی تعاون صنعتی ترقی اور برآمدی فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اتوار کو جاری بیان میں چیئر پرسن سی ٹی آئی اعجاز الرحمن نے کہا کہ حکومتی گرانٹس کو محض مالی معاونت کے طور پر نہیں بلکہ سرکاری اقتصادی پالیسی کو عملی شکل دینے کے ایک موثر ذریعے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اس کے ذریعے صنعتوں کو نئی منڈیوں تک رسائی، برآمدات میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشنز عموماً ممبرشپ فیس اور دیگر محدود ذرائع سے اپنے روزمرہ امور چلاتی ہیں تاہم ایسے منصوبے جو پوری صنعت کیلئے طویل المدتی فوائد رکھتے ہوں اور جن کیلئے بڑے مالی وسائل درکار ہوں انہیں صرف ممبران کے فنڈز سے مکمل کرنا مشکل ہوتا ہے، حکومت کو ایسی سکیموں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے ممکنہ نتائج، برآمدی استعداد اور پوری صنعت پر پڑنے والے اثرات کو بنیادی اہمیت دینی چاہیے۔

اعجاز الرحمن نے کہا کہ سرکاری معاونت سے صنعتی معیار بہتر بنانے، سرٹیفیکیشن اور تربیتی پروگرامز کے انعقاد، عالمی تجارتی میلوں میں شرکت اور بین الاقوامی خریداروں سے روابط بڑھانے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں برآمدی کاروبار کو وسعت دینے اور نئی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات متعارف کرانے میں مدد ملتی ہے۔چیئرپرسن سی ٹی آئی نے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام آئندہ ماہ لاہور میں منعقد ہونے والی 42ویں عالمی نمائش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے اشتراک سے ہونے والی یہ نمائش حکومت اور برآمدی صنعت کی ایسوسی ایشن کے باہمی تعاون کی موثرمثال ہے،اس کے ذریعے پاکستانی ہاتھ سے بنے قالینوں کو عالمی خریداروں کے سامنے پیش کرنے، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور برآمدی آرڈرز کے امکانات پیدا ہوں گے۔