سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ جب کسی قتل کے مقدمے میں براہِ راست عینی شہادت، زخمی گواہ کی گواہی، طبی شواہد اور فرانزک رپورٹ باہم مطابقت کے ساتھ جرم کو ثابت کر دیں تو صرف محرک کا ثابت نہ ہونا سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لئے کافی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔
براہِ راست، طبی اور فرانزک شواہد کی موجودگی میں محرک کا ثابت نہ ہونا سزائے موت میں کمی کا قانونی جواز نہیں، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ جب کسی قتل کے مقدمے میں براہِ راست عینی شہادت، زخمی گواہ کی گواہی، طبی شواہد اور فرانزک رپورٹ باہم مطابقت کے ساتھ جرم کو ثابت کر دیں تو صرف محرک کا ثابت نہ ہونا سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لئے کافی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق یہ آبزرویشن سپریم کورٹ کے جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے جیل پٹیشن نمبر 178 آف 2025 میں مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے دی۔عدالت نے لاہور ہائیکورٹ، ملتان بینچ کے 22 مئی 2025 کے فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت ٹرائل کورٹ کی جانب سے مجرم خدا بخش کو سنائی گئی سزائیں برقرار رکھی گئی تھیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مقدمہ ایف آئی آر نمبر 850/2019 (تھانہ سٹی شجاع آباد، ضلع ملتان) سے متعلق ہے جس میں الزام تھا کہ 14 اور 15 اکتوبر 2019 کی درمیانی شب ملزم نے اپنے گھر کے اندر 30 بور پستول سے فائرنگ کر کے اپنے بیٹے محمد عمران، بیٹی فوزیہ بی بی اور کمسن پوتے محمد مدنی کو قتل جبکہ دوسرے بیٹے محمد رضوان کو زخمی کر دیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کی کہانی براہِ راست عینی شہادت پر مبنی ہے جس کی تصدیق زخمی گواہ کے بیان، میڈیکل رپورٹس اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ سے ہوتی ہے جس کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والے خول ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والے اسلحہ سے مطابقت رکھتے ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ محض یہ دلیل کہ مقدمے میں محرک واضح طور پر ثابت نہیں ہوا، اس وقت اہمیت اختیار نہیں کرتی جب جرم کے تمام بنیادی عناصر مضبوط شواہد سے ثابت ہو چکے ہوں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ محرک کا عدم ثبوت ہر کیس میں لازمی طور پر فائدہ دینے والا عنصر نہیں ہوتا خصوصاً جب براہِ راست شناخت اور سائنسی شواہد موجود ہوں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ گواہوں کی رشتہ داری کو خود بخود ان کی شہادت کو مشکوک قرار نہیں دیا جا سکتا، خاص طور پر اس صورت میں جب وقوعہ گھریلو ماحول میں پیش آیا ہو اور عینی گواہوں کی موجودگی قدرتی اور قابلِ فہم ہو۔فیصلے میں کہا گیا کہ اس کیس میں تین افراد کا قتل اور ایک کا زخمی ہونا، گھر کے اندر اندھا دھند فائرنگ، کمسن بچے کا قتل اور مسلسل فائرنگ جیسے عوامل اسے انتہائی سنگین اور سفاکانہ نوعیت کا مقدمہ بناتے ہیں،
جس میں کسی بھی قسم کی رعایت کی گنجائش موجود نہیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ مجرم کی طرف سے کوئی ایسا قانونی یا معقول رعایتی پہلو ثابت نہیں کیا جا سکا جو سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا جواز فراہم کرے، لہٰذا اپیل خارج کی جاتی ہے اور سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔








