برصغیر کے عظیم مفکر سرسید احمد خان کا یوم ولادت روایتی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا گیا

برصغیر کے عظیم مفکر سرسید احمد خان کا یوم ولادت روایتی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا گیا

کراچی۔ 18 اکتوبر (اے پی پی):سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(اے آئی ٹی)اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن (اموبا) کے زیراہتمام برصغیر کے عظیم مفکر سرسید احمد خان کا یوم ولادت روایتی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا گیا۔اتوار کو جاری اعلامیہ کے مطابق علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے صدر اور سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے چانسلر محمد اکبر علی خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرسید احمد خان کی فکر و تعلیمات، خدمات اور وراثت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے تہذیبی اور تعلیمی ارتقا میں کلیدی کردار ادا کیا، سرسید یونیورسٹی اسی تہذیبی و تعلیمی روایت کی امین ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ توسیعی منصوبے کے تحت، بلاک ای کی ساتویں منزل تعمیر کی گئی جس میں ایک جدید ترین ڈیزائن اسٹوڈیو بھی تیار کیا گیا ہے۔ سرسید ٹاور میں جلد ہی سرسید اسکول آف لا کی کلاسوں کا آغاز ہوگا۔علاوہ ازیں نیو کیمپس میں بھی کلاسیں شروع کرنے کا پروگرام زیرِ غور ہے، اے آئی لیب کے علاوہ، تین اضافی لیبارٹریوں کو بھی اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ممتاز اسکالرز نے سرسید احمد خان کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی تاکہ ہماری موجودہ نسل اپنے اکابرین کی نظریاتی جدوجہد سے واقف ہوسکیں۔

ذاکر علی خان فائونڈیشن اور ذاکر علی خان پینل کی چیئرپرسن، محترمہ ارم اکبر علی خان نے کہا کہ سرسید احمد خان نے زوال پذیر قوم کو بیدار کیا اور اپنی علمی تحریک سے انقلاب برپا کردیا آج ہم جو آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، وہ سرسید احمد خان کی جدوجہد کی مرہونِ منت ہے،ان کے پیش کردہ دو قومی نظریہ کی وجہ سے قیام پاکستان کی راہ ہموار ہوئی۔انجینئر محمد ذاکر علی خان جذبہ سرسیدی سے سرشار تھے اوران کا وژن سرسید کا وژن تھا۔انہوں نے تعلیم،ادب اور اسپورٹس کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں،کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس اور سوئمنگ پول بنوایا۔

اموبا کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر جعفر نذیر عثمانی نے کہا کہ سر سید ایک ایسے رہنما تھے جو اپنے وقت سے بہت آگے کی سوچ رکھتے تھے،آج اس یادگار موقع پر ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم سر سید احمد خان کے نظریات کو زندہ رکھیں گے اور علم کی روشنی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر ممتاز ادیب و شاعر محمود شام ،سینیٹر حسیب خان اوراعجاز فاروقی نے بھی اظہار خیال کیا۔