برطانوی حکومت نے بچوں کے موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال پر قومی مشاورت کا آغاز کر دیا

لندن۔20جنوری (اے پی پی):برطانوی حکومت نے بچوں کی ذہنی صحت، تعلیم اور سماجی ترقی پر ضرورت سے زیادہ سکرین ٹائم کے منفی اثرات کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر سوشل میڈیا اور موبائل فون کے استعمال کے بارے میں ملک گیر مشاورت(قومی رائے طلبی ) کا آغاز کر دیا ہے۔شنہوا کے مطابق حکومت نےبیان میں کہا کہ یہ اقدام بچوں کے لیے ڈیجیٹل ماحول کو بہتر طور پر ریگولیٹ …

لندن۔20جنوری (اے پی پی):برطانوی حکومت نے بچوں کی ذہنی صحت، تعلیم اور سماجی ترقی پر ضرورت سے زیادہ سکرین ٹائم کے منفی اثرات کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر سوشل میڈیا اور موبائل فون کے استعمال کے بارے میں ملک گیر مشاورت(قومی رائے طلبی ) کا آغاز کر دیا ہے۔شنہوا کے مطابق حکومت نےبیان میں کہا کہ یہ اقدام بچوں کے لیے ڈیجیٹل ماحول کو بہتر طور پر ریگولیٹ کرنے کی نئی حکمت عملی کا حصہ ہے، کیونکہ والدین، سکولوں اور قانون سازوں کی جانب سے روزمرہ زندگی پر سوشل میڈیا اور سمارٹ فونز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

بیان کے مطابق اس قومی مشاورت کے دوران والدین، نوجوانوں اور سول سوسائٹی سے رائے لی جائے گی تاکہ بچوں اور ٹیکنالوجی کے درمیان صحت مند تعلق کو فروغ دیا جا سکے۔حکومت نے مشاورت کے ساتھ ساتھ سکولوں میں موبائل فون پر پابندیوں کو سخت کرنے کے فوری اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔ سکول نگران ادارے آف سٹیڈ کو ہر معائنے کے دوران یہ یقینی بنانا ہوگا کہ فون پر پابندی موثر طریقے سے نافذ کی جا رہی ہے اور سکول فون فری ہوں گے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 58 فیصد سیکنڈری سکول کے طلبہ نے بتایا کہ کم از کم کچھ اسباق میں بغیر اجازت موبائل فون استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ بڑی عمر کے طلبہ میں یہ شرح 65 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

مشاورت میں مختلف ریگولیٹری آپشنز پر غور کیا جائے گا، جن میں ڈیجیٹل رضامندی کی عمر بڑھانا، عمر کی تصدیق کے نظام کو بہتر بنانا، ضرورت سے زیادہ استعمال کو محدود کرنے کے لیے فون کرفیو متعارف کرانا اور لامحدود سکرولنگ اور سٹریکس جیسے لت لگانے والے فیچرز کو محدود کرنا شامل ہیں۔حکومت 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کے والدین کے لیے شواہد پر مبنی سکرین ٹائم گائیڈ لائنز بھی جاری کرے گی، جبکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کے والدین کے لیے الگ رہنمائی اپریل میں شائع کی جائے گی۔

سکولوں کے لیے نئی ہدایات میں واضح کیا جائے گا کہ طلبہ کو کلاسز، وقفوں یا پیریڈز کے درمیان موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔برطانوی میڈیا کے مطابق متعدد سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کر رہے ہیں۔حکومت نے کہا ہے کہ وہ موسمِ گرما میں اس مشاورت کے نتائج پر اپنا حتمی موقف جاری کرے گی، جو ڈیجیٹل دور میں بچوں کی مجموعی فلاح و بہبود بہتر بنانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔