اسلام آباد ۔05 دسمبر (اے پی پی) برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے کنٹری ہیڈعثمان احمد نے کہا ہے کہ نیب اور این سی اے نے مل کر بد عنوان لوگوں سے وصولیاں کی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا، ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہی وصولیاں کرسکتے ہیں، آنے والے دنوں میں وصولیوں کا سلسلہ مزید تیز نظر آئے گا، برطانیہ بدعنوانی کے خاتمہ کےلئے پاکستان سے …
برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے کنٹری ہیڈ عثمان احمدکا نیب کے زیراہتمام انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے حوالے سے سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔05 دسمبر (اے پی پی) برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے کنٹری ہیڈعثمان احمد نے کہا ہے کہ نیب اور این سی اے نے مل کر بد عنوان لوگوں سے وصولیاں کی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا، ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہی وصولیاں کرسکتے ہیں، آنے والے دنوں میں وصولیوں کا سلسلہ مزید تیز نظر آئے گا، برطانیہ بدعنوانی کے خاتمہ کےلئے پاکستان سے مل کر کام کررہا ہے، بدعنوان عناصر کو سخت سزائیں دے کر اس کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ جمعرات کو نیب راولپنڈی کے زیراہتمام انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرپشن سے ہر شخص متاثر ہوتا ہے، اس لعنت کا مشترکہ کوششوں سے خاتمہ کیا جاسکتا ہے، بدعنوانی سے معیشت کمزور ہوتی ہے، انسانی حقوق متاثر ہوتے ہیں، غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بد عنوان عناصر سے لوٹے ہوئے پیسے وصول کرکے ملکی معیشت مستحکم کی جاسکتی ہے، عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کے کنونشن کے تحت مشترکہ کوششوں سے اس لعنت کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی بد عنوانی کے خاتمہ کےلئے نیب سمیت دیگر تمام اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے، پاکستان اور برطانیہ کے انسداد بد عنوانی کے اداروں کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو برطانیہ میں بدعنوانی کے متعدد مقدمات میں کامیابی ملی ہے، بد عنوانی کی روک تھام کےلئے مو¿ثر مانیٹرنگ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بد عنوان کی روک تھام کےلئے لندن میں انٹرنیشنل کوآرڈینیشن مرکز قائم کیا گیا ہے، اس فورم سے بھی پاکستان کو بدعنوانی سے متعلق مقدمات میں تعاون فراہم کررہے ہیں۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بد عنوانی میں ملوث عناصر کے ڈیٹا شیئرنگ پر بھی کام جاری ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب بد عنوانی کی روک تھام کےلئے آگاہی، تدارک اور انفورسمنٹ کی سہ جہتی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کی روک تھام کے لئے ملکی اور غیر ملکی ادارو ںسے مل کر کام کررہے ہیں۔ کرپٹ مافیا کے خلاف ہر سطح پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے بد عنوانی کے مبینہ الزامات پر سابق صدر اور سابق وزیراعظم کے خلاف بھی کارروائی کی ہے، ملکی تاریخ میں پہلی بار بااثر شخصیات کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے، بعض افراد خواہ مخواہ نیب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں حالانکہ یہ مقدمات سپریم کورٹ نے نیب کو بھجوائے ہیں۔ عرفان نعیم منگی نے کہا کہ نیب افسران اپنے فرائض قومی فرض سمجھ کر ادا کررہے ہیں، بدعنوان عناصر کے خلاف ان کے سماجی رتبہ کو بالائے طاق رکھ کر کارروائی کر رہے ہیں، ہمارا کسی گروپ یا فردسے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم قانون کے مطابق اقدامات کررہے ہیں۔ ہم ملک کو بد عنوانی سے پاک کرنے کےلئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بد عنوان عناصر کا سماجی بائیکاٹ کیا جاتا تھا لیکن اب کرپٹ عناصر کو ان کے مال و دولت دیکھ کر سرآنکھوںپر بٹھایا جاتا ہے، ہمیں اس حوالہ سے اجتماعی رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نوجوانوں کو بد عنوانی کے خاتمے میں اہم کردار کے طور پر اولیت دیتا ہے۔ نوجوان بدعنوانی سے متعلق آگاہی پید اکرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے نیب راولپنڈی کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اسی عزم و جذبے سے اپنا کام جاری رکھیں۔ سیمینار کے دوران ممتاز شاعر انور مسعود نے بد عنوانی کی روک تھام سے متعلق اپنا کلام پیش کیا۔ اس موقع پر تقریری مقابلوں میں پوزیشنیں حاصل کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔








