برطانیہ سے پاکستان میں ترسیلات زر کی منتقلی کے حوالے سے بینک الفلاح کا سینڈ سپینڈ کے ساتھ اشتراک

اسلام آباد۔17اپریل (اے پی پی):بینک الفلاح نے جدید ترین اور عالمی سطح کی ترسیلات زر کی خدمات شروع کرنے کیلئے لندن میں واقع سینڈ سپینڈ (SendSpend) کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔کلائوڈ پر مبنی خدمات سے موبائل فونز کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان فوری اور آسانی سے پیسے منتقل کیے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ افراد اور کاروبار پہلے سے زیادہ آسانی سے عالمی سطح پر پیسے بھیج سکتے ہیں اور …

اسلام آباد۔17اپریل (اے پی پی):بینک الفلاح نے جدید ترین اور عالمی سطح کی ترسیلات زر کی خدمات شروع کرنے کیلئے لندن میں واقع سینڈ سپینڈ (SendSpend) کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔کلائوڈ پر مبنی خدمات سے موبائل فونز کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان فوری اور آسانی سے پیسے منتقل کیے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ افراد اور کاروبار پہلے سے زیادہ آسانی سے عالمی سطح پر پیسے بھیج سکتے ہیں اور وصول کرسکتے ہیں۔سینڈ سپینڈترسیلات زر کی منتقلی کی عالمی سروس ہے جو صرف چند انگلیوں کے ٹپس کے ساتھ بلاتعطل اور آسانی سے پیسے منتقل کرنے کیلئے جدید ترین کلائوڈ پر مبنی ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے۔

سینڈ سپینڈکے ساتھ اشتراک سے بینک الفلاح پاکستان میں 17 مختلف موبائل والٹس کے صارفین کو بیرون ملک سے فنڈ وصول کرنے بلکہ ممکنہ طور پر بینک کی 900سے زائد اے ٹی ایمز سے رقم نکلوانے کی سہولت دے رہا ہے۔ صارفین اپنے پسند کے کسی بھی بینک میں اکائونٹ میں فنڈز براہ راست منتقل کرسکیں گے۔بینک الفلاح کے صدر ا ور سی ای او عاطف باجوہ نے شراکت داری پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سینڈ سپینڈ کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے جس کے تحت برطانیہ میں مقیم پاکستانی اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق پاکستان میں اپنے پیاروں کو بغیر کسی مشکل کے ترسیلات زر بھیج سکیں گے، یہ جدید سروس صارفین کو مالی کنٹرول ان کے ہاتھوں میں دے کر انہیں بااختیار بناتاہے۔

شراکت داری ترقی پسند بینکاری کے ایکو سسٹم کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتی ہے جس میں بینک الفلاح اپنے صارفین کی منفرد ضروریات کے لیے موزوں حل فراہم کرنے میں راہنمائی کر رہا ہے۔سینڈ سپینڈکے جائنٹ سی ای اوٹریسی اینڈرسن نے کہاکہ ہم ملک بھر میں وسیع تر مالی شمولیت اور خودمختاری کے لئے مشن پربینک الفلاح کے ساتھ شراکت داری پر پرجوش ہیں۔مالیاتی رکاوٹوں کو دور کرنا اور بہتر مستقبل کیلئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کا بااختیار بنانا دونوں اداروں کا مشترکہ مقصد ہے۔

ہم بینک الفلاح کے ساتھ مل کر لاتعداد زندگیوں کو بہتر بنانے اور لامحدود سہولت پیدا کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔سینڈ سپینڈکے جائنٹ سی ای اوگراہم ڈیوس نے کہاکہ ہم پیسے بھیجنے اور وصول کرنے والے دونوں کیلئے تنائو سے پاک پیسے بھیجنے اور خرچ کرنے کی سہولت دے رہے ہیں۔اپنی سہولت کے مطابق خود سے رقم بھیجنے کی سروس فراہم کرکے ہمارے صارفین مالی کنٹرول حاصل کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ برطانیہ میں سینڈ سپینڈکے صارفین 28,000 سے زیادہ کیش پے ان پوائنٹس پر اپنے موبائل والیٹ کو ٹاپ اپ کر سکتے ہیں، اس لیے چاہے وہ اپنے بینک اکائونٹ سے رقم بھیج رہے ہوں یا کیش استعمال کر رہے ہوں، یہ عمل ہمیشہ تیز اور آسان ہوتا ہے۔سینڈ سپینڈنے معاشرے کے بڑے طبقات کو راغب کرنے کیلئے نیا اور باسہولت حل تیار کیا ہے جو آج بھی ترسیلات زر کی اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے منی ایکس چینج جاتے ہیں۔

مارکیٹ میں بینک الفلاح کی مہارت اور سینڈ سپینڈ کی ٹیکنالوجی پرمبنی جدت کے ساتھ یہ سروس پیسے بھیجنے اور وصول کرنے کے طریقے تبدیل کرنے کیلئے تیار کی گئی۔پاکستان کا شماردنیا کی بڑی آبادیوں والے ملک میں ہوتا ہے جس کی کل آبادی 20کروڑ سے سے زائد ہے۔ پاکستان کے بہت سے شہری بیرون ملک مقیم ہیں اور کام کرتے ہیں،ان میں سے اکثر اپنے خاندانوں کو رقم واپس بھیجتے ہیں۔

برطانیہ ترسیلات زر کے ذریعے پاکستان کی معیشت میں حصہ ڈالنے والے سرفہرست تین ممالک میں سے ایک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں آنے والی رقوم کا ایک بڑا حصہ برطانیہ سے آتا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر، بینک اور فن ٹیک جیسے مالیاتی اداروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مناسب حل پیش کریں جو برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی منفرد ضروریات کو پورا کرتے ہیں جنہیں اپنے مالیات کا انتظام کرنے کی ضرورت ہے۔