پاکستان کی بزنس کمیونٹی نے جی ایس پی پلس سکیم کو ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈا کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
بزنس کمیونٹی کی جی ایس پی پلس پر پروپیگنڈا کی مذمت، معرکہ حق کی طرح معرکہ معیشت بھی جیتیں گے، ایف پی سی سی آئی عہدیدار
کراچی۔ 27 مارچ (اے پی پی):پاکستان کی بزنس کمیونٹی نے جی ایس پی پلس سکیم کو ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈا کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ بات پاکستان فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگون نے جمع کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سکیم کے تحت گزشتہ 10 برسوں میں یورپی یونین کو پاکستانی برآمدات میں 108 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2023 میں جی ایس پی سٹیٹس کی توسیع پاکستان کی جانب سے عالمی قوانین کی پاسداری کا واضح ثبوت ہے اور حکومتی ادارے اور کاروباری برادری یورپی یونین کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انسانی حقوق اور لیبر قوانین سمیت 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد یقینی بنایا ہے۔ثاقب فیاض مگون نے کہا کہ پاکستان نے ’’معرکۂ حق‘‘ جیتا ہے اور اب ’’معرکہ معیشت‘‘ جیتنا باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کے باعث یورپی یونین پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی عالمی منڈی بن چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل، لیدر اور سرجیکل مصنوعات کو ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہونے سے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا جبکہ اس سکیم کی بدولت ملک میں لاکھوں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں،ان کے مطابق پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت 2013 میں 6.9 ارب یورو سے بڑھ کر 12.2 ارب یورو سے تجاوز کر چکی ہے۔ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا کہ برآمدات میں مزید اضافے کے لیے صنعتی لاگت میں کمی، شرح سود میں کمی اور بجلی کی قیمتوں کو کم کیا جائے۔
ثاقب فیاض مگون نے کہا کہ اس حوالے سے ایف پی سی سی آئی حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج نے ’’معرکہ حق‘‘ میں بھارت کو شکست دی، اب بزنس کمیونٹی اور حکومت کو مل کر ’’معرکہ معیشت‘‘ بھی جیتنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس پاکستانی معیشت کی لائف لائن ہے، جسے تمام ضوابط پر عملدرآمد کے ذریعے برقرار رکھا گیا ہے اور اس کے خاتمے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔ثاقب فیاض مگون نے کہا کہ بزنس کمیونٹی سوشل میڈیا پر جی ایس پی پلس کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا کی سخت مذمت کرتی ہے اور اس حساس معاملے پر کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2023 میں پاکستان کے اس سٹیٹس میں مزید چار سال کے لیے 2027 تک توسیع دی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے تمام شرائط پوری کی ہیں۔ایف پی سی سی آئی کے عہدیدار نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ برآمد کنندگان کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وزیراعظم شہباز شریف کے 2030 وژن کے تحت 100 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بزنس کمیونٹی اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔









