بغیر اجازت ذاتی ڈیٹا جاری کرنا جرم ہے، سعودی پبلک پراسیکیوشن

ریاض۔13جنوری (اے پی پی):سعودی عرب میں پبلک پراسیکیوشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قانونی اجازت کے بغیر ذاتی ڈیٹا جاری کرنا جرم ہے۔العربیہ اردو کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نے کہا کہ پرائیویسی کا تحفظ ان بنیادی ستونوں میں سے ہے جن کی ضمانت ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے نظام نے دی ہے۔پبلک پراسیکیوشن نے واضح کیاہے کہ ڈیٹا کے افشا میں ہر وہ غیر مجاز طریقہ شامل …

ریاض۔13جنوری (اے پی پی):سعودی عرب میں پبلک پراسیکیوشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قانونی اجازت کے بغیر ذاتی ڈیٹا جاری کرنا جرم ہے۔العربیہ اردو کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نے کہا کہ پرائیویسی کا تحفظ ان بنیادی ستونوں میں سے ہے جن کی ضمانت ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے نظام نے دی ہے۔پبلک پراسیکیوشن نے واضح کیاہے کہ ڈیٹا کے افشا میں ہر وہ غیر مجاز طریقہ شامل ہے جس کے نتیجے میں کوئی دوسرا شخص ذاتی ڈیٹا حاصل کر لے، یا اسے استعمال کرے، یا کسی بھی ذریعے اور کسی بھی مقصد کے لیے اسے دیکھ سکے۔

یہ بھی واضح کیا گیا کہ ڈیٹا کے مالک کو نقصان پہنچانے یا ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی نیت سے حساس ڈیٹا ظاہر کرنا سنگین خلاف ورزیوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس میں پرائیویسی اور افراد کے حقوق کی براہِ راست خلاف ورزی پائی جاتی ہے۔پبلک پراسیکیوشن نے کہا کہ اس قسم کے جرائم فوجداری جوابدہی کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے نظام میں درج ہے ۔

پراسیکیوش نے کہا کہ ڈیٹا کے غلط استعمال میں ملوث ثابت ہونے والے ہر شخص کے خلاف سزا کے نفاذ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔پبلک پراسیکیوشن نے افراد اور اداروں سے متعلقہ نظام اور ہدایات کی پابندی کرنے، ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی کی سطح بلند کرنے اور ایسی کسی بھی مشق سے بچنے کی اپیل کی ہے جو ڈیٹا کے لیک ہونے یا اس کے غلط استعمال کا باعث بن سکتی ہو۔