لاہور۔2 فروری(اے پی پی )گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ ہم بلدیاتی اور آئندہ عام ا نتخابات میں بھی (ق) لیگ کیساتھ اتحاد چاہتے ہیں ،چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویزا لٰہی نے بالکل درست کہا ہے کہ اتحاد ختم ہونے سے تحر یک انصاف اور (ق) لیگ دونوں کو نقصان ہوگا،چوہدری براداران نے حکومتی کمیٹی میں میرے نام پر اعتراض کی بات نہیں کی، چوہدری برادران …
بلدیاتی اور آئندہ عام ا نتخابات میں بھی (ق) لیگ کیساتھ اتحاد چاہتے ہیں ،چوہدری براداران نے حکومتی کمیٹی میں میرے نام پر اعتراض کی بات نہیں کی، چوہدری برادران کے ساتھ اچھے اور پرانے تعلقات ہیںگورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی گور نر ہائوس میں میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
لاہور۔2 فروری(اے پی پی )گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ ہم بلدیاتی اور آئندہ عام ا نتخابات میں بھی (ق) لیگ کیساتھ اتحاد چاہتے ہیں ،چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویزا لٰہی نے بالکل درست کہا ہے کہ اتحاد ختم ہونے سے تحر یک انصاف اور (ق) لیگ دونوں کو نقصان ہوگا،چوہدری براداران نے حکومتی کمیٹی میں میرے نام پر اعتراض کی بات نہیں کی، چوہدری برادران کے ساتھ اچھے اور بہت پرانے تعلقات ہیں۔(ق) لیگ ،ایم کیوایم اور بلو چستان عوامی پارٹی سمیت تمام اتحادی حکومت کیساتھ ہیں اور کوئی بھی اتحادی حکومت گرانے کی بات نہیں کر رہا ۔اختلاف رائے سیاست اور جمہوریت کا حسن ہے ۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سمیت تمام ادارے پاکستان میں معیشت کی بہتر ی کی تصدیق کر رہے ہیں۔ وہ اتوار کے روز گور نر ہائوس لاہور میں ہینڈی کرافٹس شاپ کا افتتاح کر نے کے بعد میڈیا کے سوالوں کے جوابات دے رہے تھے۔ گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے (ق) لیگ کے ساتھ مذاکرات کیلئے میری سر براہی میں کمیٹی قائم کردی ہے ہم بہت جلد (ق) لیگ کی قیادت کے ساتھ باقاعدہ رابطہ کر یں گے اور ان کے جوبھی تحفظات ہوں گے ان کو یقینی طور پر دور کیا جائیگا ۔ اُنہوں نے کہا کہ صرف پاکستان ہی نہیں ،دنیا میں جہاں بھی اتحادی حکومتیں ہوتیں ہیں وہاں اتحادیوں میں اختلاف رائے ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ حکومت ختم ہو رہی ہے،ا تفاق رائے کا نہ ہونا مطلب یہ نہیں کہ لڑائی ہوگئی۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ہی مجھے گور نر ،سردار عثمان بزدار کو وزیر اعلی اور چوہدری پرویز الٰہی کو سپیکر بنایا ہے اور ہم تینوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم مل بیٹھ کرمعاملات کو حل کر یں اور صوبے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق بات کر یں۔ ایک سوال کے جواب میں گور نر نے کہا کہ ماضی میں کیا ہوتا ہے، اس کو چھوڑ کر ہمیں اب آگے کی طرف بڑ ھنا ہے اور مجھے یقین ہے کہ (ق) لیگ اور حکومت کے در میان معاملات بالکل ٹھیک ہوجائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ چوہدری برادران کے ساتھ میرا تعلق گور نر بننے یا پاکستان میں سیاست کر نے کی وجہ سے نہیں بلکہ ہمارا تعلق اس وقت ہے جب میں لندن میں سیاست کر تارہا ہوں، چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویزا لٰہی بھی پاکستان کے حالات اور سیاست کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں اس لیے حکومت اور (ق) لیگ کے اتحاد میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ (ق) لیگ کی قیادت نے تحفظات کے باوجود حکومت کا ساتھ دینے کی بات کی ہے اور تمام اتحادی اس بات پر متفق ہیں کہ وہ حکومت گرانے کے کسی منصوبہ کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ حکومت اور جمہوریت کی مضبوطی اور عوامی ترقی اور خوشحالی کیلئے اپنا کردارادا کر یں گے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں مہنگائی اور گڈ گور ننس کے حوالے سے ایشوز ہیں مگر وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت 2020 ء میں سب سے زیادہ توجہ مہنگائی کے خاتمے اور گڈ گورننس کو بہتر کر نے پر دے رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تحر یک انصاف کی حکومت نے ملک کو معاشی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے اور 19ارب ڈالرز کے کر نٹ اکاوئنس خسارے کو بھی انتہائی کم کر دیا ہے کیونکہ جب کسی بھی ملک میں 9 ارب ڈالر خسارہ ہوگا تو وہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا جبکہ مہنگائی کے خاتمے کیلئے بھی تاریخی اور ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ سرکاری عمارتوں کو عوام کیلئے کھولا جائے اسی کے تحت پہلے گور نر ہائوس کو صرف اتوار کیلئے کھولا جاتا ہے مگر اب ہفتے کے روز بھی گور نر ہائوس عوام کیلئے کھولا جائیگا اور یہاں پر آنیوالے عوام کیلئے ہینڈی کرافٹس شاپ بنائی گئی ہے ،کوشش کرینگے کہ بیرون ملک ہنر مندوں کے فن پارے بھیجے جائیں، اس کے علاوہ گور نرہائوس سیر کیلئے آنیوالوں کو کھانے پینے کیلئے بھی شاپس بنائی جا رہی ہیں تاکہ یہاں آنیوالے اپنی فیملی کیساتھ بھر پور انجوائے کر سکیں۔








