حکومت نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران معاشی استحکام کے حصول کیلئے نمایاں پیشرفت کی ہے، بلال اظہر کیانی

وزیر مملکت برائے ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران معاشی استحکام کے حصول کیلئے نمایاں پیشرفت کی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنانے اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):وزیر مملکت برائے ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران معاشی استحکام کے حصول کیلئے نمایاں پیشرفت کی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنانے اور پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔جمعرات کو سینیٹ میں تحریری سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سال 2026ء کے اعداد و شمار کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا ہے جن کے مطابق 21 غیر ملکی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئی ہیں جبکہ مقامی کمپنیوں اور مقامی صارفین کی رجسٹریشن کی تعداد 42,505 ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے بعض کمپنیوں کے انخلا کو مجموعی معاشی صورتحال کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے تاہم متعدد بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں داخل ہوئی ہیں یا اپنی سرمایہ کاری اور آپریشنز میں توسیع کر رہی ہیں۔ ان میں ڈی وائی ڈی، آرامکو، واپے، علی بابا گروپ اور اے ڈی پورٹس سمیت دیگر کمپنیاں شامل ہیں۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ گوگل نے بھی حال ہی میں پاکستان میں اپنا دفتر قائم کیا ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کو دفتر کے قیام تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کی سرمایہ کاری اور سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ مشرق بینک اور ریکامی سمیت دو ڈیجیٹل بینکوں نے بھی سٹیٹ بینک آف پاکستان سے لائسنس حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 ماہ کے دوران غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کا خالص حجم 1.6 ارب ڈالر رہا جبکہ مجموعی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری 3.3 ارب ڈالر رہی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کو درپیش تمام معاشی مسائل ختم ہوگئے ہیں تاہم گزشتہ دو سے ڈھائی سال کے دوران معاشی استحکام کیلئے نمایاں پیشرفت ہوئی ہے جس کا اعتراف بین الاقوامی اداروں اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی ہے جبکہ مالیاتی اور بنیادی بجٹ کے توازن، زرمبادلہ کے ذخائر اور دیگر معاشی اشاریوں میں بھی بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے بعد حکومت نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور کاروباری شعبے کیلئے ریلیف اقدامات متعارف کرائے، جن میں سپر ٹیکس میں کمی اور بعض شعبوں کیلئے اس کے خاتمے سمیت آئی ٹی برآمدات کیلئے حتمی ٹیکس نظام کو جاری رکھنے کے اقدامات شامل ہیں۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت پالیسیوں میں تسلسل اور کاروباری طبقے کو پالیسی یقین دہانی فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ نیشنل ٹیرف پالیسی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال پانچ سالہ پالیسی کا اعلان کیا تھا اور اب اس کے دوسرے سال میں بھی اسے جاری رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی اور غیر ملکی کاروباری طبقے، چیمبرز اور کاروباری گروپس کے ساتھ مسلسل مشاورت کر رہی ہے اور مستقبل میں بھی اس عمل کو جاری رکھا جائے گا۔ضمنی سوالات کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت کاروباری طبقے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کو بھی متعلقہ امور پر باقاعدگی سے بریف کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے خلاف بھی نمایاں اقدامات کئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت میں ٹیکس وصولی اور نفاذ کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے جن کا اعتراف آئی ایم ایف نے بھی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسٹمز میں اصلاحات کے ذریعے درآمد کنندگان اور اپریزرز کے درمیان ممکنہ گٹھ جوڑ کا راستہ روکا گیا ہے جبکہ سمگلنگ کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ بلال اظہر کیانی نے واضح کیا کہ ٹیکس چوری اور سمگلنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تاہم حکومت اس کے سدباب کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے سینیٹرز سے اپیل کی کہ جہاں کہیں ٹیکس چوری یا سمگلنگ کے حوالے سے مخصوص معلومات موجود ہوں، حکومت کو فراہم کی جائیں تاکہ متعلقہ ادارے کارروائی کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایک طرف ٹیکس چوری اور ٹیکس فراڈ روکنے اور ٹیکس قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے تو دوسری جانب کاروباری ماحول کو بھی سازگار رکھنا ہے تاکہ کاروباری افراد کو غیر ضروری ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکومت اسی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اقدامات جاری رکھے گی۔