"بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں کرتے ہوئے 69 خوراکی مراکز پر جرمانے عائد کیے اور 100 سے زائد نوٹسز جاری کر دیے۔”
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی صوبے بھر میں کارروائیاں،69خوراکی مراکز پر جرمانے پر جرمانے عائد

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 27 جولائی (اے پی پی):بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے خوراک کے معیار کو بہتر بنانے اور عوام کو محفوظ و معیاری خوراک کی یقینی فراہمی کیلئے 69خوراکی مراکز پر جرمانے عائداور 100سے زائد کونوٹسز جاری کردئیے گئے ۔
ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق فوڈ اتھارٹی کی انسپیکشن ٹیموں نے کوئٹہ، دالبندین، پنجگور، صحبت پور، لورالائی، ژوب، خضدار اور حب میں وسیع پیمانے پر انسپکشنز اور انفورسمنٹ کارروائیاں کیں۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 69 خوراک کے مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 100 سے زائد اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ معائنہ کیے گئے مراکز میں بیکنگ یونٹس، ملک شاپس، جنرل اسٹورز، ریسٹورنٹس، نان شاپس، مصالحہ شاپس اور دیگر خوراک کے کاروباری مراکز شامل تھے۔ مختلف کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں ایکسپائرڈ، ممنوعہ اور غیر معیاری اشیائے خورونوش برآمد کرکے موقع پر تلف کر دی گئیں تاکہ یہ مصنوعات عوام تک نہ پہنچ سکیں۔کوئٹہ کے مختلف علاقوں نواں کلی، ایئرپورٹ روڈ، علمدار روڈ، پشتون آباد، جوائنٹ روڈ اور ارباب کرم خان روڈ سمیت دیگر مقامات پر بھی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے موثر کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی کی جبکہ علمدار روڈ پر واقع ایک واٹر پیوریفیکیشن پلانٹ میں بوتلوں کے ڈھکن اور لیبل پر مختلف تاریخِ تیاری اور معیاد ختم ہونے کی تاریخیں درج ہونے، لیبارٹری تجزیہ رپورٹس فراہم نہ کرنے اور مختلف ہوٹلوں و اداروں کے نام سے بوتل بند پانی مارکیٹ کرنے پر متعلقہ اسٹاک ضبط کر لیا گیا اور فوڈ بزنس آپریٹر کو مزید قانونی کارروائی کے لیے دفتر طلب کر لیا گیا۔دوسری جانب بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا سیوریج کے پانی سے کاشت مضر صحت سبزیوں کے خلاف خصوصی کریک ڈاون بھی بھرپور انداز میں جاری رہا۔ تازہ کارروائی کے دوران کلی رمضان، کوئٹہ میں تقریبا 27 ایکڑ رقبے پر سیوریج کے پانی سے کاشت کی گئی ہری پیاز، دھنیا، پودینہ اور پالک کی مضر صحت فصلیں تلف کر دی گئیں جبکہ مزید غیر قانونی کاشت کی روک تھام کے لیے سیوریج کے پانی کے تمام راستے بلاک کر دیے گئے۔








