وزارتِ مذہبی امور کی انقلابی 3 سالہ حج پالیسی کا اجراء؛ سعودی عرب میں رہائش، ٹرانسپورٹ اور کیٹرنگ کے 4 سالہ معاہدے، 60/40 کوٹہ، بغیر محرم حج ، کوٹہ کی خرید و فروخت یا کارٹل بنانے پر پابندی عائد
وزارتِ مذہبی امور کی انقلابی 3 سالہ حج پالیسی کا اجراء؛ سعودی عرب میں رہائش، ٹرانسپورٹ اور کیٹرنگ کے 4 سالہ معاہدے، 60/40 کوٹہ، بغیر محرم حج ، کوٹہ کی خرید و فروخت یا کارٹل بنانے پر پابندی عائد

مزید خبریں
خرم شہزاد
اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار آئندہ تین برسوں کے لیے 16 صفحات اور 4 اہم حصوں پر مشتمل 3 سالہ حج پالیسی و منصوبہ (2027–2030 ) کا اجراء کر دیا ہے ۔ اس کثیر سالہ فریم ورک کا بنیادی مقصد حج آپریشنز میں پائیدار تسلسل لانا، سعودی عرب میں رہائش، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ اور فضائی سفر کے 3 سے 4 سال کے طویل المدتی معاہدوں کے ذریعے اخراجات کو کم کرنا اور عازمینِ حج کو معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ پالیسی کے تحت کل حج کوٹہ کا 60 فیصد سرکاری اور 40 فیصد پرائیویٹ اسکیم کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ نقد ادائیگیوں کا مکمل خاتمہ کر کے تمام مالیات کو اسٹیٹ بینک اور ڈیجیٹل پورٹل سے جوڑ دیا گیا ہے۔
اصلاحات کے تحت مخصوص حلف نامے پر خواتین کو بغیر محرم حج کی اجازت، پرائیویٹ آپریٹرز کے لیے ایس ای سی پی رجسٹریشن، 2,000 حجاج کی حد اور کوٹہ کی خرید و فروخت یا کارٹل بنانے پر مکمل اینٹی مونوپلی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے جاری کردہ پالیسی کے تحت عازمینِ حج کے لیے کثیر سالہ رجسٹریشن اور انتظار کی فہرست کا نظام قائم کر دیا گیا ہے تاکہ شہری اپنے مطلوبہ سال کے لیے وقت سے پہلے پرسکون انداز میں منصوبہ بندی کر سکیں۔ عازمین کی مالی سہولت کے لیے’’حج سیونگ اسکیم‘‘ کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے۔ تخمینہ لاگت کی 10 فیصد رقم جمع کرانے والے عازمین کو’’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘‘ کی بنیاد پر ترجیحی فہرست میں جگہ ملے گی۔ سرکاری اسکیم میں 38 سے 42 دن کا ’’اسٹینڈرڈ لانگ پیکج ‘‘ اور 20 سے 25 دن کا’’شارٹ پیکیج‘‘ دیا جائے گا۔
اخراجات کو کنٹرول کرنے اور معیاری خدمات کے لیے سعودی عرب میں رہائش، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ، فضائی سفر اور سامان کی منتقلی کے 3 سے 4 سال کے طویل المدتی معاہدے کیے جائیں گے۔ پالیسی کے مطابق شفاف مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے آپریشن کے اختتام پر بچنے والی رقم سابقہ روایت کی طرح عازمینِ حج کو واپس منتقل کی جائے گی۔پرائیویٹ حج انڈسٹری کو شفاف بنانے اور اجارہ داری کا خاتمہ کرنے کے لیے وزارت نے سخت اصلاحات نافذ کی ہیں۔ تمام پرائیویٹ آپریٹرز کے لیے ایس ای سی پی سے رجسٹریشن اور’’پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل‘‘ کے ذریعے ہی تمام ڈیٹا پروسیس کرنا لازمی ہوگا۔ آپریٹرز کو 3 سالہ لائسنس کے ساتھ پیڈ اپ کیپیٹل (کل کاروبار کا 10%)، مجاز سرمایہ (20%) اور 5 فیصد پرفارمنس گارنٹی جمع کرانا ہوگی۔ کم از کم 2,000 حجاج کی حد پوری نہ کرنے والی کمپنی کو غیر فعال کر کے اس کے عازمین دوسرے آپریٹرز کو منتقل کیے جائیں گے اور سکیورٹی ڈپازٹ کا آدھا حصہ ضبط کر لیا جائے گا۔
کوٹہ کی خرید و فروخت، سب لیٹنگ یا کارٹل بنانے پر مکمل پابندی عائد ہے۔عازمین کی رہنمائی کے لیے مناسکِ حج، سعودی قوانین، حفظانِ صحت اور بنیادی آئی ٹی و حج ایپس کا لازمی تربیتی پروگرام چلایا جائے گا۔ معاونینِ حجاج کا انتخاب کابینہ کمیٹی برائے پرائیویٹ حج پالیسی (نوٹیفکیشن 15 جنوری 2026) کے مقرر کردہ معیارات پر صرف میرٹ کی بنیاد پر ہوگا۔ اس کے علاوہ حجاج کی دیکھ بھال اور سہولت کاری کے لیے’’حج ناظم سکیم‘‘ بھی نوٹیفائی کی جا سکتی ہے۔تکافل کے اصولوں پر مبنی ’’حجاج محافظ سکیم‘‘ فعال رہے گی جس کے تحت فی کس 1,000 روپے غیر واپسی رقم سے فنڈ قائم ہوگا۔
دورانِ حج سعودی عرب میں وفات کی صورت میں متوفی کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے اور بیماری یا حادثے پر ہنگامی انخلاء کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ کسی بھی بحران یا حادثات سے نپٹنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل حج کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی ‘ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم’اور ہنگامی ردِعمل ٹیم قائم کر دی گئی ہے۔ پالیسی کے مطابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کو سعودی تعلیمات یا اضطراری آپریشنل حالات کی روشنی میں پالیسی میں ضروری ترامیم کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔








