"صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سندھ سمیت دیگر صوبوں کے طلبہ بھی تعلیم، سکالرشپ اور لیپ ٹاپ جیسی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔”
پیپلز پارٹی نے سندھ کو 50 سال پیچھے دھکیل دیاہے،پی پی رہنمائوں نے پنجاب کا مقابلہ کرنا ہے تو پرفارمنس سے کریں ،رانا سکندر حیات

مزید خبریں
لاہور۔27جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ کو 20 سالوں میں موہنجوڈارو کے کھنڈرات بنا دیا گیا۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سندھ سمیت دیگر صوبوں کے بچے بھی تعلیم، سکالرشپ، لیپ ٹاپ جیسی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔
دانش سکولوں میں سندھ اور دیگر صوبوں کے 1800 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سکول آف ایمیننس میں سندھ کے 750 بچوں نے داخلہ لیا۔ سندھ کے گزشتہ 2 سال کے اعداد و شمار نکالے جائیں تو انرولمنٹ 9 فیصد سے زیادہ نہیں بڑھی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران میڈیا نمائندوں کے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب کا مقابلہ کرنا ہے توپرفارمنس سے کرے۔ لٹریسی ریٹ، کرائم ریٹ اور منصوبوں پر بات کرے۔ جب بھی پنجاب اور سندھ کی ترقی کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو پیپلز پارٹی کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پنجاب کی ترقی پیپلز پارٹی کی سیاسی موت ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ پنجاب میں ریکارڈ ریفارمز کی گئیں۔ پی پی آج تک سندھ کو دانش سکول، الیکٹرک بسوں، منیارٹی کارڈز، لیپ ٹاپ، سکالرشپ، کسان کارڈ، اپنا گھر جیسے منصوبے نہیں دے سکی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس صرف نعرے ہیں، عملی اقدامات کیلئے کوئی ایجنڈا نہیں۔ ان کی ساری بحث اسی بات پر ہے کہ نواز شریف کی تقریر پہلے ہوگی یا مریم نواز کی۔ انہوں نے کہا کہ سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم اور دانش سکولوں میں سندھ کے بچوں کا کوٹہ بڑھا رہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے ستھرا پنجاب ورکرز کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے بیان پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 2 لاکھ ستھرا پنجاب ورکرز کی توہین کی ہے۔ اس پر انہیں ستھرا پنجاب ورکرز سے فوری معافی مانگنی چاہیے۔








