طنز اور تضحیک کی سیاست سے باہر آ کر کشمیر کی خوبصورت وادیوں کو دیکھیں، اس کی ترقی کی بات کریں اور محبتیں بانٹیں،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

"وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو طنز و تضحیک کی سیاست سے نکل کر کشمیر کی ترقی، عوامی فلاح اور مثبت سیاست پر توجہ دینی چاہیے۔”

اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیپلز پارٹی سے کہا ہے کہ طنز اور تضحیک کی سیاست سے باہر آ کر کشمیر کی خوبصورت وادیوں کو دیکھیں اس کی ترقی کی بات کریں اور محبتیں بانٹیں، پیپلز پارٹی کشمیریوں کو 40 بسیں دے تو اس کا خیر مقدم کریں گے ۔

پیر کو سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں میرپور ڈویژن میں 13 حلقوں میں پولنگ کا پہلا مرحلہ پر امن طریقے سے مکمل ہو چکا ہے ۔ نکیال کے علاقے میں فائرنگ کا ایک ناخوشگوار واقعہ سامنے آیا ، اس کے علاوہ 12 حلقوں میں لوگوں نے پر امن طریقے سے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ( ن) نے 12 حلقوں میں انتخابی مہم کو چلایا ، ایک بڑا مرکزی جلسہ ہوا میاں نواز شریف اور وِزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اس میں شرکت کی اور عوام کو وہ تمام تاریخی اور تعمیر وترقی کے حوالے سے پنجاب میں منصوبوں کی مثال دی اور بتایا کہ اگر آزاد کشمیر میں ہماری حکومت بنی جو کہ بنتی نظر آ رہی ہے تو اسی طرح کے منصوبے یہاں لائے جائیں گے ۔ پیپلزپارٹی پہلے دن سے یہاں منفِی سیاست ،طعنہ زنی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت اور۔وزراء کو نشانہ بنانے اور الزامات لگانے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی اس کے علاوہ آزاد کشمیر میں نا کوئی ترقی دینے کی بات کی نا یہاں کوئی ڈویلپمنٹ کی کوئی بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ نا ہی پیپلزپارٹی کے پاس سندھ میں کوئی ایسا پراجیکٹ ہے جس سے وہ کشمیر میں مثال دے کر بات کر سکیں کہ یہ ہم نے سندھ میں کیا ہے اور یہ پراجیکٹ ہم کشمیر میں لے کر آئیں گے ۔ مسلم لیگ ن نے پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں جو پراجیکٹس ہیں وہ کشمیری عوام کو بتائے اور یقین دلایا کہ یہ ہم یہاں لے کر آئیں گے ۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ لوگوں کو حق رائے دہی کے استعمال کا حق ہونا چاہیے جس جماعت کو وہ ووٹ دیں گے اس کی یہاں حکومت بنے گی ، پیپلزپارٹی کے منفی بیانات اور منفی سیاست یہاں کا ماحول اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم اپنی پنجاب کی سیاسی کشمکش کو یہاں پر لے کر آئیں۔ انہوں نےکہا کہ یہاں پر نفرتیں پھیلانے کے بجائے یہاں محبتوں کے بیج بوئیں ، یہاں پر آزاد کشمیر کے امن و ترقی کی بات کریں اگر انہیں ترقی کی مد میں کچھ دے سکتے ہیں تو اس کی بات کریں۔ یہاں آ کر وفاقی وزراء اور قیادت کے خلاف تنقید کی گئی اور جو بسیں ہم نے دی ہیں اس پر بھی تنقید کی گئی ۔ ہم نے دی ہیں تو آپ 40 بسیں دیں ہم اس کو خوش آمدید کہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کچھ دے نہیں سکتے تو ان کے لئے مسلم لیگ کی قیادت جواعلانات کر رہی ہے آپ اس پر بھی اعتراض کر رہے ہیں ، یہ صرف آپ کی سیاسی ناکامی اور بدحواسی کی علامت ہے اور آپ جان چکے ہیں کہ کشمیر میں آپ کی نا ہی مقبولیت ہے اور نا ووٹ ملنے ہیں ۔ پیپلزپارٹی اپنی نظر آتی ہوئی ناکامی کو چھپانے کے لئے ایسے بیانات دے رہی ہے اور کشمیر کے عوام کو بھی آپ کو جانتے ہیں ۔ ایک مضبوط حکومت ہی آزاد کشمیر کے مسائل اور تنائو کی کیفیت کا حل ہے ، آپ نے ٹرتھ کمیشن کی بات کی ہم اس میں بیٹھیں گے آپ اس کو ضرور بنائیں۔ کشمیر میں امن ، ترقی ، خوشحالی کی جو بھی بات کرے گا ہم اس کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہیں ۔