"صدر مملکت آصف علی زرداری نے سندھ حکومت اور چینی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں اور تعاون پر مبنی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو تمام منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔”
صدر آصف علی زرداری کی سندھ حکومت اور چینی کمپنیوں کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور دیگر تعاون پر مبنی منصوبوں پرتیزی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت

مزید خبریں
کراچی ۔27جولائی (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے سندھ حکومت اور چینی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں اور دیگر تعاون پر مبنی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام متفقہ منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور باقی ماندہ تکنیکی و انتظامی تقاضے جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔
یہ ہدایات انہوں نے وزیراعلیٰ ہائوس کراچی میں منعقدہ اجلاس میں چینی کمپنی انہوئی نینگٹونگ نیو انرجی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ اور لیوینگ ماڈرن بائیولوجی گروپ کے وفود سے ملاقات کے دوران جاری کیں۔اجلاس میں چین-پاکستان-افریقہ اقتصادی و تجارتی تعاون فروغ ایسوسی ایشن کی معاونت سے مختلف شعبوں میں جاری تعاون اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پیر کو ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں صدر مملکت کو الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر، ویٹرنری ویکسین، مویشیوں کی شناخت اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام، زرعی ٹیکنالوجی، صحت، فائر سیفٹی آلات اور دیگر شعبوں میں ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ انہیں سندھ حکومت کی جانب سے چینی کمپنیوں کے ساتھ رابطوں اور منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔صدر مملکت نے کہا کہ حکومت چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، چین کے ساتھ اپنی “آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کے تحت اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ چینی کمپنی سندھ میں ای وی چارجنگ اسٹیشنز، شمسی توانائی سے منسلک چارجنگ سہولیات، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، اسمارٹ چارجنگ نیٹ ورک، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تربیت کے منصوبوں میں دلچسپی رکھتی ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد الیکٹرک گاڑیوں کے انفراسٹرکچر کے لیے موزوں شہر ہیں جبکہ کراچی-حیدرآباد ایم-9 موٹروے بین الاضلاعی چارجنگ نیٹ ورک کے آغاز کے لیے اہم راہداری ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تعاون پاکستان میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ اور نئی توانائی کے شعبے کی ترقی میں معاون ہوگا۔اجلاس میں سندھ حکومت اور لیونگ ماڈرن بائیولوجی گروپ کے درمیان ویٹرنری ویکسین، مویشیوں کی شناخت اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام سے متعلق تعاون پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ اگست میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہسبنڈری کا وفد چین کا دورہ کرے گا جبکہ منہ کھر کی بیماری سندھ-08 وائرس پر تکنیکی کام بھی جاری ہے۔صدر مملکت کو آگاہ کیا گیا کہ چین اور پاکستان میں ویکسین کے آزمائشی مراحل نومبر 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد منصوبے کی لاگت اور عملدرآمد کا حتمی شیڈول طے کیا جائے گا۔صدرمملکت نے سندھ حکومت اور چینی ادارے کے درمیان تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں سے مویشیوں میں بیماریوں کی روک تھام، لائیو اسٹاک مینجمنٹ، خوراک کے تحفظ اور ویٹرنری نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام باقی ماندہ تکنیکی اور انتظامی مراحل جلد مکمل کیے جائیں تاکہ منصوبوں پر بروقت عملدرآمد ممکن ہو۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، صوبائی وزرا، چیف سیکرٹری سندھ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ڈاکٹر عاصم حسین، دیگر اعلیٰ حکام اور چینی وفود کے نمائندوں نے شرکت کی۔







